سوات (اے بی این نیوز) خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں کبل تھانے کے قریب خودکش دھماکے میں پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید اور 18 زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے تھانے میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اتوار کو سوات کی تحصیل کبل میں مقامی امن کمیٹی کے پرامن مظاہرے کے دوران کبل تھانے کے مرکزی دروازے پر خودکش دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید اور 18 زخمی ہوگئے۔
دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات محمد عمر گنڈا پور نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور تھانے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا تاہم ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے خودکش حملہ آور کو گیٹ پر روک لیا جس کے بعد اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
ڈی پی او کے مطابق دھماکے کی جگہ سے ایک انسانی سر بھی ملا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ خودکش حملہ آور کا ہے۔
ڈی آئی جی ملاکنڈ سید فدا حسین نے بتایا کہ دھماکے کے وقت مقامی نوجوانوں کا احتجاج بھی جاری تھا جس کی وجہ سے جائے وقوعہ پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ واقعے کی نوعیت اور حملہ آور کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں:ن لیگ کا الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کو خط، بڑی خبر سامنے آگئی















