اسلام آباد(اے بی این نیوز)عالمی منڈی میں جمعرات کو سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور آئندہ امریکی فیڈرل ریزرو کے اجلاس سے متعلق سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی ہے۔
رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد کمی کے بعد 4 ہزار 103 ڈالر 39 سینٹ فی اونس پر آ گئی، جبکہ بدھ کے روز سونا 7 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچتے ہوئے 4 ہزار 165 ڈالر 87 سینٹ فی اونس تک گیا تھا۔ امریکی گولڈ فیوچر بھی 1.1 فیصد کمی کے ساتھ 4 ہزار 106 ڈالر 40 سینٹ فی اونس پر آ گیا۔ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے مہنگائی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے اور امریکی فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے، جس نے سونے کی قیمت پر دباؤ ڈالا۔
انڈس انڈ بینک سیکیورٹیز کے سینئر ریسرچ اینالسٹ جیگر ترویدی کے مطابق تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کر رہی ہیں اور شرح سود میں اضافے کی توقعات سونے کی مثبت رفتار کو محدود کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس کی ایک وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نئے حملے اور بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی ڈالر 0.1 فیصد کمزور ہوا، جس سے دیگر کرنسیوں میں خریداری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہو گیا۔
امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار بھی 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کی سپلائی متاثر ہونے اور مہنگائی دوبارہ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم مارکیٹ میں رواں سال کے اختتام تک کم از کم ایک مرتبہ شرح سود بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا چاندی کی قیمت 1.3 فیصد کمی کے بعد 58.90 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1 فیصد کمی کے ساتھ 1 ہزار 628 ڈالر 63 سینٹ جبکہ پیلیڈیم 1.2 فیصد کمی کے بعد 1 ہزار 274 ڈالر 96 سینٹ فی اونس پر آ گیا۔
مزیدپڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ















