کراچی(اے بی این نیوز)کراچی میں 27 جون کو رینجرز کیمپ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ قاری بشیر سمیت پورا سہولت کار نیٹ ورک پکڑا گیا۔سینٹرل پولیس آفس کراچی میں وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ 27 جون کو گلستان جوہر میں واقع رینجرز کیمپ آفس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے بتایا کہ دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کرنے والے اسمگلرز بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں اور حملوں میں شامل افغانستان اور پاکستان میں پورا نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خارجی دہشت گرد جانان نے رینجرز کیمپ کے دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا، باقی 3 دہشت گرد اندر داخل ہوئے، حملہ کرنے والا ایک دہشت گرد باجوڑ کا رہنے والا اور تین افغان شہری تھے، چاروں دہشت گردوں کو تربیت، اسلحہ اور بارود افغانستان سے فراہم کیا گیا۔
حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو ہینڈلر افغان سرزمین سے ہدایات دے رہے تھے، گرفتار سہولت کاروں کی بھارتی پراکسی جماعت الاحرا کے ٹریننگ کیمپ میں حملے کی تیاری اور بیان ریکارڈ کرانے کی ویڈیو بھی برآمد کی گئی ہیں۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار دہشت گرد عثمان نے دوران تفتیش مختلف تربیتی کیمپس میں تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا، جبکہ حملے میں ملوث چار دہشت گرد افغانستان سے کراچی پہنچے اور انہیں حب چوکی سے کورنگی منتقل کرکے ایک گھر میں ٹھہرایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ محمد بشیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، بعض سہولت کاروں کے روابط بھارت سے ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں۔وفاقی کابینہ میں رد و بدل کی تیاریاں، اہم وزارتوں میں تبدیلی کا امکان















