واشنگٹن (اے بی این نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں ہونے والا امن معاہدہ صرف بیس دن کے اندر ہی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایران کو بین الاقوامی منڈیوں میں تیل بیچنے کی دی گئی عارضی اجازت نامے کو منسوخ کر کے دوبارہ پابندیاں لگا دی ہیں۔
امریکا نے یہ سخت قدم آبنائے ہرمز میں تیل کے بحری جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں اٹھایا ہے۔
امریکی فیصلے کے فوراً بعد بدھ کی صبح ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا پر معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔
امریکا کے محکمہ خزانہ کے ماتحت کام کرنے والے ادارے اوفیک کے ڈائریکٹر بریڈلی سمتھ نے اس فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ نئی پابندی سات جولائی سے لاگو ہو چکی ہے اور اب ایران سے کسی بھی قسم کے نئے کاروباری معاہدے یا تیل خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
Statement by the Ministry of Foreign Affairs of the Islamic Republic of Iran on the United States' Explicit Violation of Article 10 of the Islamabad Memorandum of Understanding
July 8, 2026
(Unofficial Translation)The Ministry of Foreign Affairs of the Islamic Republic of Iran… pic.twitter.com/IaON7Cv65K
— Iran in India (@Iran_in_India) July 7, 2026
انہوں نے کہا کہ اب صرف وہی لین دین ہو سکے گا جو پرانے معاہدوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے امریکی حکومت کے ایک ترجمان نے ’سی این بی سی ٹی وی‘ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کو فائدہ صرف اسی صورت میں ملے گا جب وہ اچھے رویے کا مظاہرہ کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیاں امریکا کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں تھیں اور ان کے نتائج تو بھگتنا ہوں گے۔
امریکہ کے اس اچانک فیصلے پر ایران کی وزارتِ خارجہ نے شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ اقدام 18 جون کو دستخط کیے گئے اسلام آباد امن معاہدے کی شق 10 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں: آج بروزبدھ 8 جولائی موسم کی تازہ ترین صورتحال















