اہم خبریں

پیپلزپارٹی کے امجد حسین نے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھالیا

گلگت (اے بی این نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما امجد حسین نے گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت اہم سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

امجد حسین ایڈووکیٹ کو 22 جون کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ انتخاب 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے بعد عمل میں آیا، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 24 رکنی گلگت بلتستان اسمبلی میں 12 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔

پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل کی، اور اس طرح وفاقی سطح کی سیاسی ترتیب کی طرز پر ایک اتحادی حکومت تشکیل دی گئی۔

حلف برداری کی تقریب چنار باغ میں منعقد ہونا تھی، تاہم اسے یکم جولائی کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایران گئے تھے، جہاں انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما امجد حسین نے گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت اہم سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

امجد حسین ایڈووکیٹ کو 22 جون کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ انتخاب 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے بعد عمل میں آیا، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 24 رکنی گلگت بلتستان اسمبلی میں 12 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔

پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل کی، اور اس طرح وفاقی سطح کی سیاسی ترتیب کی طرز پر ایک اتحادی حکومت تشکیل دی گئی۔

حلف برداری کی تقریب چنار باغ میں منعقد ہونا تھی، تاہم اسے یکم جولائی کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایران گئے تھے، جہاں انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہو گئی ہے اور امجد حسین ایڈووکیٹ بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کئی روز تک گلگت بلتستان میں موجود رہے۔

انہوں نے تقریباً ہر حلقے میں جلسے کیے اور حکومت بننے کی صورت میں گلگت بلتستان کے مسائل حل کرنے اور ترقی کے لیے کام کرنے کے وعدے کیے۔

انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے، تاہم نئی حکومت کو متعدد چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے عوام سے روزگار، بنیادی سہولیات، سیاحت کے فروغ، بجلی کے بحران کے خاتمے اور آئینی حقوق کے حوالے سے متعدد وعدے کیے تھے۔

اب عوام کی نظریں نئی حکومت کی کارکردگی پر مرکوز ہیں کہ وہ ان وعدوں کو کس حد تک عملی جامہ پہناتی ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کے مطابق انہیں طویل عرصے سے کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔

ان میں سب سے نمایاں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے، جو گرمیوں اور سردیوں دونوں موسموں میں معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔

اس کے ساتھ آئینی حقوق بھی ایک اہم اور دیرینہ مطالبہ ہے، عوام کے مطابق متعدد علاقوں میں لوگ کئی کئی گھنٹے بجلی سے محروم رہتے ہیں، جس کے باعث صنعت، تجارت اور سیاحت کا شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

یونیورسٹی سے فارغ التحصیل شہاب احمد کے نزدیک نوجوانوں کے لیے روزگار سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس پر مقامی حکومت توجہ نہیں دے رہی۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شہاب احمد نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شرحِ خواندگی نسبتاً زیادہ ہے اوراعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوجوان روزگار کے لیے دربدر اور کراچی سمیت دیگر شہروں میں معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں یہ پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت ہے، لیکن ابھی تک روزگار کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے، ان کے مطابق اسمبلی مکمل طور پر خودمختار نہیں ہے۔

’پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے وعدے کیے ہیں، جن سے نوجوان طبقے کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔‘

شہاب احمد کے مطابق، پیپلز پارٹی کی ایک تاریخ ہے کہ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور اس بار بھی ہمیں اس سے امیدیں ہیں۔

ہنزہ سے تعلق رکھنے والے واجد خان بھی شہاب احمد سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق روزگار اس خطے کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی سے زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔

گلگت شہر کے رہائشی مجید افنان کے مطابق انتخابات کے دنوں میں سیاسی جماعتیں سرگرم ہو جاتی ہیں اور گلگت کو یورپ بنانے کے دعوے کرتی ہیں، لیکن بعد میں کوئی نظر نہیں آتا۔

ان کے نزدیک خودمختاری ایک اہم مسئلہ ہے، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ایک خودمختار صوبے کا درجہ ملنا چاہیے تاکہ وہ اپنے وسائل کے مطابق فیصلے کر سکے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر انداز میں کام کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت وفاق کے ماتحت ہے اور زیادہ تر فیصلے اسلام آباد میں ہوتے ہیں، جنہیں یہاں نافذ کر دیا جاتا ہے۔

’ہم چاہتے ہیں کہ صوبہ خودمختار ہو اور فیصلے گلگت بلتستان میں ہی کیے جائیں۔‘

مجید افنان نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت کو مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے، اس لیے نئی حکومت کو ایک خصوصی مالی پیکیج متعارف کرانا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور ترقیاتی کاموں میں تیزی آئے۔

دوسری جانب شہاب احمد کے مطابق سیاحت گلگت بلتستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، تاہم سیاحتی مقامات تک رسائی، سڑکوں کی خستہ حالی، صحت اور ہنگامی خدمات کی کمی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چوتھی بار حکومت میں آئی ہے، لیکن ان مسائل پر خاطر خواہ توجہ نظر نہیں آتی۔

ان کے مطابق گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن خراب سڑکیں اور کمزور انفرا اسٹرکچر اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

شہاب احمد نے کہا کہ حکومت سیاحتی انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنائے تاکہ مقامی معیشت کو مزید فروغ مل سکے، جبکہ پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران اس حوالے سے وعدے بھی کیے تھے۔

ان کے مطابق صحت اور تعلیم کے شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، دور دراز علاقوں میں اسپتالوں، ڈاکٹروں، ادویات اور تعلیمی اداروں کی کمی ہے، جبکہ کئی افراد علاج اور تعلیم کے لیے ملک کے دیگر صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔
مزید پڑھیں: فلپائن کے جزیرے منڈاناؤ میں 5.8 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا

متعلقہ خبریں