اسلام آباد(اے بی این نیوز) قومی اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اقبال آفریدی کی معطلی ختم کرنے کی تحریک منظور کر لی جس کے بعد ان کی ایوان میں واپسی کی راہ ہموار ہو گئی۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کی سیکیورٹی، ایوانی آداب اور پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالوں کے استعمال سے متعلق بھی دل چسپ اور غیر معمولی بحث بھی ہوئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے ایوان میں معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقبال آفریدی کی معطلی کے صرف 2 روز باقی رہ گئے ہیں، جب کہ بدھ کو بجٹ کی منظوری ہونی ہے، اس لیے انھیں ایوان میں شرکت کی اجازت دی جائے۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کورم کی نشان دہی کرنا ہر رکن کا آئینی اور پارلیمانی حق ہے اور اقبال آفریدی کی معطلی ختم کی جانی چاہیے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ اقبال آفریدی کو کورم کی نشان دہی پر نہیں بلکہ ان کے رویے کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اقبال آفریدی نے ڈی جی میڈیا، اسمبلی عملے اور دیگر اراکین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا، جب کہ بہ طور اسپیکر ان کی ذمہ داری ایوان کے نظم و ضبط اور وقار کو برقرار رکھنا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ نئے اراکین اسمبلی کو پارلیمانی روایات، ایوانی آداب اور قواعد و ضوابط سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اقبال آفریدی کی جماعت ان کی واپسی چاہتی ہے تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی ضمانت درکار ہے۔
بعد ازاں بیرسٹر گوہر کی جانب سے پیش کی گئی تحریک ایوان نے منظور کر لی اور اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی ختم کر دی گئی۔
اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اسپیکر ایاز صادق نے ارکان کو ہدایت کی کہ بغیر پاس کسی بھی شخص کو پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل نہ ہونے دیا جائے کیوں کہ سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ارکان کے مہمانوں کی تعداد محدود کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
انھوں نے پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ویگو ڈالا ایک ولگر کلچر بن چکا ہے اور جو اس کی اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے اس کے رویے میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔ خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ لاجز کو ویگو ڈالوں سے پاک کیا جائے، شام کے بعد سرکاری جھنڈوں والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور غیر ضروری پروٹوکول کا خاتمہ کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ اگر اراکین اسمبلی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تو وزرا کو بھی غیر ضروری سیکیورٹی اور پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ قومی اسمبلی میں ہونے والی اس دل چسپ بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن دونوں نے پارلیمنٹ کے وقار، ایوانی نظم و ضبط اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جب کہ اقبال آفریدی کی معطلی ختم ہونے کے بعد سیاسی ماحول میں بھی قدرے نرمی دیکھنے میں آئی۔
مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمت میں کتنا ٹیکس شامل ہے ،تفصیلات سامنے آگئیں















