لاہور(اے بی این نیوز)لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں آگ لگا کر قتل کرنے کے مقدمے میں مجرم احمد کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ خاتون کی بغیر کسی جواز کے جان لینے والا شخص سزا میں کسی نرمی کا مستحق نہیں، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس نوعیت کے گھناؤ نے جرم کا مرتکب فرد عبرتناک سزا کا مستحق ہوتا ہے اور ٹرائل کورٹ نے مجرم کو درست سزا سنائی۔
عدالت کے مطابق مجرم کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں اور اس کیس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا، لہٰذا مجرم کی اپیل مسترد کی جاتی ہے۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق تھانہ فیکٹری ایریا شیخوپورہ پولیس نے 2021 میں مجرم احمد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2023 میں اسے سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
پراسیکیوشن کے مطابق مجرم خاتون کو نہر کے قریب لے گیا جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا، بعد ازاں خاتون کو نہر میں پھینک دیا گیا، تاہم وہ نہر سے باہر نکل آئی۔ استغاثہ کے مطابق اس پر مجرم نے اپنی موٹر سائیکل سے پٹرول نکال کر خاتون پر چھڑکا اور آگ لگا دی۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شدید زخمی حالت میں خاتون کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا بیان جوڈیشل مجسٹریٹ نے قلمبند کیا، بیان میں خاتون نے ملزم کے تمام اقدامات کی نشاندہی کی، استغاثہ کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق بھی ہوئی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پولیس نے تفتیش کے دوران مجرم احمد سے موٹر سائیکل، پٹرول والی بوتل اور دیگر متعلقہ اشیاء بھی برآمد کیں، جنہوں نے استغاثہ کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور ہائیکورٹ نے تمام شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد مجرم کی سزا کیخلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
مزید پڑھیں: سکیورٹی فورسز کی میران شاہ میں کارروائیاں،مزید 21 دہشت گرد ہلاک















