اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں چھوٹے دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے ملک بھر کے لاکھوں چھوٹے تاجروں کے لیے ایک نیا اور آسان ٹیکس نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ حکومت نے دکاندار برادری اور ان کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد یہ منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس نظام کا مقصد چھوٹے کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور ان کے لیے پیچیدہ ٹیکس طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 99 بی کے تحت ایسے دکاندار اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہو۔ مجوزہ نظام کے تحت سالانہ فروخت کا ایک فیصد بطور ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
حکومت نے اس اسکیم میں کئی سہولتیں بھی شامل کی ہیں۔ دکاندار اپنے ودہولڈنگ ٹیکس کو ایڈجسٹ کرا سکیں گے، تاہم گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا لازم ہوگا۔ اس کے علاوہ معمول کے آڈٹ سے بھی استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
چھوٹے دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس کے تحت کاروباری افراد کو خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی ذمہ داری نہیں ہوگی اور انہیں پی او ایس مشین نصب کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔
حکومت کی جانب سے اس اسکیم میں شامل دکانداروں کو ایک خصوصی سبز رنگ کی تختی دی جائے گی جس پر تصدیقی کیو آر کوڈ موجود ہوگا۔ اس تختی کو دکان پر نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا ہوگا۔ حکام کے مطابق اس تختی کی موجودگی میں ایف بی آر اہلکاروں کو بلا ضرورت دکان میں داخل ہو کر پوچھ گچھ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید یہ کہ اس نظام کے تحت ایک سادہ اور مختصر ٹیکس گوشوارہ متعارف کرایا جائے گا جو اردو سمیت مختلف مقامی زبانوں میں دستیاب ہوگا تاکہ دکاندار آسانی سے اپنی ٹیکس ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔















