دبئی (اے بی این نیوز) دبئی میں پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی کی خبروں کے بعد متحدہ عرب امارات کی حکومت سے قریبی وابستہ کچھ اماراتی مبصرین اور تجزیہ کاروں نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کسی بھی شخص کے خلاف رنگ، نسل، مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جاتی بلکہ صرف قانون اور سیکیورٹی کے ضابطوں کے مطابق کی جاتی ہے۔
ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے بعد اس معاملے پر سوشل میڈیا پر مختلف آراء اور تبصرے سامنے آئے تاہم اماراتی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم اماراتی امور کی نگرانی کرنے والے مبصرین نے رپورٹ میں مذکور فرقہ وارانہ پہلو کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون متحدہ عرب امارات میں تمام افراد پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے اور کوئی بھی کارروائی قانونی تقاضوں سے متعلق ہے۔
ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر متحدہ عرب امارات میں کسی پاکستانی شہری کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو اس کا تعلق ویزہ قوانین، سکیورٹی کے مسائل یا دیگر قانونی شرائط سے ہو سکتا ہے نہ کہ مذہبی یا فرقہ وارانہ وابستگی سے۔
اماراتی مبصرین نے مزید موقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات میں مذہب یا فرقے کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا تصور موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق ریاستی ادارے تمام قومیتوں اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ اس وقت تقریباً 1.8 ملین پاکستانی متحدہ عرب امارات میں زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارات نہ صرف پاکستانی افرادی قوت کا ایک اہم مرکز ہے بلکہ اسے پاکستان کا قریبی اقتصادی اور سفارتی شراکت دار بھی سمجھا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر تبصروں نے بھی اس نظریے کی تائید کی کہ متحدہ عرب امارات کئی دہائیوں سے مختلف مذاہب، فرقوں اور قومیتوں کے لاکھوں لوگوں کو ایک محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کر رہا ہے، جہاں قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
کچھ اماراتی مبصرین نے مزید کہا کہ اگر واقعی کسی فرد کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک ہوا ہے تو اس کی مکمل تفصیلات کو شفاف طریقے سے سامنے لانا چاہیے تاکہ حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض الزامات یا بے بنیاد دعووں کی بنیاد پر کسی بھی معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا مناسب نہیں اور اس سلسلے میں ٹھوس شواہد پیش کیے جائیں۔
مزید پڑھیں:پہلا ون ڈے،پاکستان کو جیت کیلئے مشکل ہدف مل گیا















