اہم خبریں

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، وزیراعظم کا دورۂ چین 23 مئی سے شروع ہوگا

اسلام آباد (رضوان عباسی) ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں مسلسل جاری ہیں جبکہ وزیراعظم پاکستان 23 سے 26 مئی تک چین کا اہم سرکاری دورہ کریں گے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتکاری میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں متعدد عالمی و علاقائی رہنماؤں سے رابطے کیے گئے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے قطر، مصر اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے دو اہم دورے کر کے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور امیر قطر کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور عالمی برادری کو جنگ کے خطرات کم کرنے کے لیے فوری کردار ادا کرنا ہوگا۔

ترجمان نے کہا کہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہو چکے ہیں اور چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین نے خلیجی کشیدگی کے معاملے پر ایک جیسا مؤقف اختیار کیا ہے۔

بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کا بلا احتساب قتلِ عام ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گھروں کو مسمار کیا جانا آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی غیرقانونی کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر کشمیری سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ نئی دہلی انسانی حقوق خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے جبکہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھارت کی مداخلت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارت میں پاکستانی پنکھے کی دریافت کے الزامات بھی “کبوتر کہانی” کی طرح دقیانوسی ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ پاک افغان تعلقات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کے پاکستان میں حملے ہیں۔ دوحہ معاہدے اور عالمی قوانین کے تحت افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ دار ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران۔امریکہ امن عمل میں سہولت کاری فراہم کر رہا ہے اور پاکستانی قیادت ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ نائب وزیراعظم کو امن عمل سے الگ رکھا جا رہا ہے۔

سندھ طاس معاہدے سے متعلق ترجمان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے نکلنے کی کوئی شق موجود نہیں اور کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اس سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تمام قانونی فورمز پر اپنا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کے الزامات بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ 3000 پاکستانیوں کی واپسی مختلف قانونی اور انتظامی تناظر میں ہوئی، اسے غلط رنگ نہ دیا جائے۔
مزید پڑھیں: پاک آسٹریلیا ون ڈے سیریز کے ٹکٹس آج 3 بجے سے فروخت کیلئے دستیاب

متعلقہ خبریں