اسلام آباد (رضوان عباسی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عوام شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 15 مئی کو اسلام آباد میں بڑا احتجاج کرے گی جبکہ عید کے بعد ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عالمی منڈی کے مطابق پیٹرول کی قیمت 271 روپے بنتی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے 117 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز شامل کر کے پیٹرول 416 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی عوام پر ظلم ہے اور حکومت صرف ٹیکس اہداف اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی شرائط پوری کرنے میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں بجلی کے شعبے میں 19 کھرب روپے کے ٹیکسز وصول کیے گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکمران طبقہ مہنگی گاڑیاں اور طیارے خرید رہا ہے۔ ان کے مطابق مریم نواز نے 11 ارب روپے کا طیارہ خریدا، جبکہ یوسف رضا گیلانی 9 کروڑ روپے کی گاڑی استعمال کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مہنگائی کے باعث عوام کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے اور لوگ خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا تو پاکستان میں ہی صورتحال کیوں بگڑ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، بجلی اور گیس پر فکس چارجز عائد کیے گئے ہیں جبکہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کی سبسڈی ختم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں شرح غربت 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ پنجاب میں یہ شرح 41 فیصد ہے اور آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ شریف خاندان اس معاشی بحران کا ذمہ دار ہے، جبکہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر بھی شفافیت نہیں رکھی جا رہی۔ ان کے مطابق حکومت چند کمپنیوں سے معاہدے کر رہی ہے جبکہ باقی معاہدے ختم کیے بغیر توسیع کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سولر صارفین کو بھی ریلیف دینے کے بجائے بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ موجودہ سیاسی اتحاد کو انہوں نے “بٹن سے چلنے والا اتحاد” قرار دیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف تحریک کی قیادت کرے گی اور ملک بھر میں پرامن احتجاجی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے بائیک سواروں سے بھی احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ ملک کے کروڑوں موٹرسائیکل سوار اس تحریک کو مؤثر بنا سکتے ہیں۔
صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی اتحاد ان قوتوں کے پاس ہے جنہوں نے فارم 47 کے تحت حکومت قائم کی اور کراچی میں جماعت اسلامی کا میئر نہیں بننے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اب صرف عوام کے ساتھ اتحاد کرے گی اور کسی سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔