اہم خبریں

بلوچستان ،ایرانی پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے کا اضافہ ہوگیا

کوئٹہ (اے بی این نیوز)بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی اور ساحلی ضلع گوادر میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے کا اضافہ ہوا ہے، یہ بات بی بی سی نے بتائی۔

گوادر میں تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ حکومت پاکستان کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں گذشتہ روز کیے جانے والے اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ سرحدی علاقے کنٹانی ہور پر کاروبار کی بندش کی وجہ سے ہوا ہے۔مکران ڈویژن میں سرکاری حکام نے کنٹانی ہور کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے وفاقی اتھارٹیز نے بند کیا ہے۔

گوادر سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی بہرام بلوچ کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں تیل کے لیے نہ صرف عام لوگوں بلکہ خود سرکاری اداروں کا بھی انحصار ایرانی تیل پر ہے، ایران سے متصل جیونی کے علاقے میں واقع کنٹانی ہور کے علاقے سے سمندر کے راستے ایرانی تیل گوادر میں آتا ہے۔

گوادر میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ ماجد اصغر نے فون پر بتایا کہ پہلے گوادر میں ایرانی پیٹرول فی لیٹر 170 روپے سے 180 روپے میں فروخت ہو رہا تھا لیکن کنٹانی ہور کی بندش کی اطلاعات کے بعد سنیچر کے روز فی لیٹر قیمت 200 روپے سے 210 روپے تک پہنچ گئی۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوام کو ریلیف دیا جائے، نواز شریف کی ہدایت

متعلقہ خبریں