اہم خبریں

پاکستان امن چاہتا ہے مگر دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، دفتر خارجہ

اسلام آباد(رضوان عباسی )ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، تاہم ملکی خودمختاری، سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ آج معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ منائی جا رہی ہے، جبکہ پانچ مئی کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سفارتی کور کو معرکۂ حق کے حوالے سے خصوصی بریفنگ دی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ دو مئی کو اسحاق ڈار نے اپنے کویتی ہم منصب سے رابطہ کیا، جبکہ ناروے کے نائب وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ میں ان سے ملاقات کرکے اوسلو فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کی صورتحال پر تشویش ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے پُرامید ہے اور توقع ہے کہ جلد کوئی مثبت پیشرفت سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سفارتکاری میں معاملات کو کسی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا، تاہم امید ہے کہ تمام فریق جلد کسی حتمی تصفیے تک پہنچ جائیں گے۔

صومالیہ میں پاکستانی عملے اور دیگر متعلقہ افراد کے معاملے پر ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستانی سفارتخانہ اور وزارت خارجہ صومالی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام کا ایک وفد جلد موغادیشو کا دورہ کر سکتا ہے تاکہ متعلقہ اداروں سے ملاقاتیں کی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زیرِ حراست افراد تک فوری رسائی ممکن نہیں، تاہم معاملے پر مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے۔

بھارت سے تعلقات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے۔ کشمیر، آبی مسائل اور علاقائی سلامتی سمیت تمام معاملات پر پاکستان کا مؤقف قانونی بنیادوں پر قائم ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان پر کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے تمام قانونی اور سفارتی آپشنز استعمال کرے گا۔ دریاؤں کے بہاؤ اور پانی کی مقدار کا مکمل ریکارڈ رکھا جا رہا ہے اور حکومت کے تمام متعلقہ ادارے اس معاملے پر متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی کسی بھی دہشتگرد سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق سرحدی بندش، تجارت اور بارڈر مینجمنٹ جیسے مسائل کی بنیادی وجہ دہشتگردی ہے، اس لیے علامات کے بجائے اصل وجوہات پر توجہ دینا ہوگی۔

بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل چوکنا اور متحرک ہیں۔ انہوں نے شہید فوجی افسران، اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کی بیرونی حمایت کے شواہد عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کے فورمز پر پیش کیے جا چکے ہیں۔

دفاعی امور پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی قابلِ اعتماد کم از کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی عسکری جدید کاری کے اثرات سے پاکستان مکمل طور پر آگاہ ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے ذریعے اپنی دفاعی تیاری مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کے دفاعی تعلقات پر اعتراضات کے حوالے سے طاہر اندرابی نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاعی تعلقات مضبوط ادارہ جاتی بنیادوں اور باہمی اعتماد پر قائم ہیں اور بھارت کی سفارتی کوششیں ان تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

متحدہ عرب امارات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے یو اے ای کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور حالیہ حملوں کی بھرپور مذمت کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سفارتی مشنز ابوظہبی اور دبئی میں قونصلر معاملات فعال انداز میں نمٹا رہے ہیں۔ دبئی قونصلیٹ نے دو ہزار سات سو چودہ جبکہ ابوظہبی میں جنوری سے اپریل کے دوران سات سو اسی ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹس جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای میں زیرِ حراست بیشتر پاکستانیوں کے معاملات قانونی نوعیت کے ہیں اور پاکستانی سفارتخانہ اس سلسلے میں یو اے ای حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔
مزید پڑھیں: پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ

متعلقہ خبریں