ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے آبنائے ہرمز strait of hormuz سے متعلق ایک بار پھر سخت اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال کسی بھی سوشل میڈیا بیان یا سیاسی ٹویٹ سے نہ تو بند کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کھولی جا سکتی ہے۔ امریکہ شکست تسلیم کرے یا معاہدہ کر ے۔ ان کے مطابق یہ خطہiran عالمی توانائی اور تجارت کے لیے انتہائی حساس ہے اور اس پر فیصلے صرف زمینی حقیقتوں اور ریاستی خودمختاری کے تحت ہی ممکن ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا اس پر کسی قسم کی پیش رفت کا واحد راستہ ایران کی خودمختاری اور اس کے سیکیورٹی مؤقف کو تسلیم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں بیرونی دباؤ یا یکطرفہ فیصلے قابل قبول نہیں ہوں گے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں،خوشخبری آگئی، جا نئے کیا
ابراہیم رضائی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں، اور یا تو اسے سفارتی سطح پر معاہدہ کرنا ہوگا یا پھر زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران خطے میں اپنی اسٹریٹجک برتری برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور آبنائے ہرمز پر اپنی پوزیشن مضبوط رکھے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق عالمی طاقتوں کو یکطرفہ فیصلوں کے بجائے بات چیت اور حقیقت پسندی کا راستہ اپنانا ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں توانائی کے معاملات پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور آبنائے ہرمز کو دنیا کے اہم ترین تیل روٹس میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے باعث اس نوعیت کے بیانات عالمی سطح پر فوری ردعمل کا باعث بنتے ہیں۔















