اسلام آباد(رضوان عباسی) پاکستان نے بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی کو معطل رکھنے کے اقدام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری توجہ اور کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کی جانب سے لکھا گیا خط سلامتی کونسل کے صدر، بحرین کے سفیر جمال فارس الروایعی کے حوالے کیا، جس میں بھارت کے آبی اقدامات پر عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سپیس ایکس کی اے آئی اسٹارٹ اپ کرسر کو خریدنے کیلئے60 ارب ڈالرز کی پیشکش
خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی کو معطل رکھنے کے غیر قانونی فیصلے کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد اس کے سنگین اثرات سامنے آ رہے ہیں، جو نہ صرف انسانی سطح پر تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ پانی کو دباؤ یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بھارت کو فوری طور پر معاہدے پر مکمل عملدرآمد بحال کرنے، معاہدے کے تحت تمام تکنیکی تعاون اور ڈیٹا شیئرنگ دوبارہ شروع کرنے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی نیک نیتی سے پاسداری کرنے کا پابند بنائے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان خطے اور عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں اور ثالثی کے عمل میں مصروف ہے، بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ بھارت کی آبی پالیسی اور اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور انسانی بحران کو جنم دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔
پاکستان نے اپنے خط میں اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ جموں و کشمیر کا غیر حل شدہ تنازع جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ناگزیر ہے۔
اسلام آباد نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری اور خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے باز رکھنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔















