سری لنکا میں ایک بڑی اور چونکا دینے والی سائبر واردات ( Cyber Attack )سامنے آئی ہے جہاں وزارت خزانہ کے کمپیوٹر سسٹم کو ہیک( Digital Theft ) کر کے تقریباً 2.5 ملین ڈالر چوری کر لیے گئے۔ حکام کے مطابق یہ ملک کے کسی بھی سرکاری ادارے سے ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی ڈیجیٹل ڈکیتی قرار دی جا رہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم آسٹریلیا کو قرض کی ادائیگی کے لیے بھیجی جانی تھی، تاہم سیکیورٹی نظام میں نقب کے باعث یہ رقم پراسرار طور ( Cyber Security )پر غائب ہو گئی۔ واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب وزارت کے ای میل سرور تک رسائی میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مشکوک غیر ملکی کرنسی ٹرانزیکشنز جنوری 2026 میں بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد داخلی انکوائری کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے مختلف اداروں کو تحقیقات میں شامل کرتے ہوئے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔واقعے کے بعد پبلک ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے چار سینئر افسران کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ کرمنل انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ اور مالیاتی نگرانی کے ادارے بھی اس کیس کی چھان بین کر رہے ہیں۔ سری لنکا نے بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی مدد طلب کر لی ہے۔
اسلام آباد سے افسوسناک خبر،جا نئے کتنا جانی نقصان ہوا
آسٹریلیا کی جانب سے بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں حکام نے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال سے آگاہ ہیں اور سری لنکن حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں تاکہ معاملے کو حل کیا جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سائبر سیکیورٹی کے خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ممالک اپنی معیشت کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر رہے ہیں۔















