اسلام آباد (اے بی این نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی نمائندہ ٹیم کی کل اسلام آباد آمد کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مجوزہ معاہدہ تسلیم نہ کیا گیا تو امریکا ایرانی پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور سخت کارروائی سے دریغ نہیں کرے گا۔
امریکی صدر نے گزشتہ روز بھی ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ناکہ بندی پہلے ہی اسے بند کر چکی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس صورتحال میں ایران کو آئے روز بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکہ کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جو کر رہے ہیں وہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
President Trump posts on TruthSocial: Iran decided to fire bullets yesterday in the Strait of Hormuz — A Total Violation of our Ceasefire Agreement! Many of them were aimed at a French Ship, and a Freighter from the United Kingdom.
That wasn’t nice, was it? My Representatives… pic.twitter.com/RpbTh6Xty4
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) April 19, 2026
امریکی صدر نے کہا کہ وہ کام کر رہے ہیں جو گزشتہ 47 سالوں میں کسی امریکی صدر نے نہیں کیا، اب وقت آگیا ہے کہ ایران کے قاتل مشن کو ختم کیا جائے۔ امریکی صدر نے گزشتہ روز بھی ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کو غیر معمولی قرار دیا اور کہا کہ امریکی ناکہ بندی پہلے ہی اسے بند کر چکی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اس صورتحال میں ایران کو ہر روز بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکہ کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔ امریکی صدر نے مذاکرات کے حوالے سے نیویارک پوسٹ سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیوٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد پہنچیں گے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ بعد میں پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں تاہم فی الحال وہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد میں مذاکرات،کل عام تعطیل ہوگی؟















