عالمی سطح پر مالیاتی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران دنیا کے 100 بڑے بینکوں کے 10 لاکھ سے زائد آن لائن بینکاری اکاؤنٹس ہیک( bank accounts) ہو گئے۔ یہ رپورٹ کاسپرسکی کی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ انٹیلیجنس ٹیم کی جانب سے جاری کی گئی، جس نے عالمی سائبر خطرات کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہیک ہونے والے اکاؤنٹس کی معلومات ڈارک ویب پر کھلے عام شیئر کی جا رہی ہیں، جس سے صارفین کے مالی ڈیٹا کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ متاثرہ ممالک میں بھارت، اسپین اور برازیل سرفہرست رہے، جہاں فی بینک سب سے زیادہ اکاؤنٹس متاثر ہوئے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ 2025 میں چوری ہونے والے 74 فیصد بینک کارڈز مارچ 2026 تک فعال رہے، جس کا مطلب ہے کہ ہیکرز پرانے ڈیٹا کو بھی مسلسل استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال مالی فراڈ کے خطرات کو کئی گنا بڑھا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سائبر حملوں کا انداز بدل رہا ہے، جہاں روایتی کمپیوٹر وائرس کی بجائے اب سوشل انجینئرنگ اور ڈارک ویب مارکیٹس کا زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔ خاص طور پر موبائل ڈیوائسز پر مالیاتی حملوں میں 1.5 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا، جو ایک نئی خطرناک ٹرینڈ کی نشاندہی کرتا ہے۔
فشنگ حملوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ جعلی آن لائن شاپنگ ویب سائٹس 48.5 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہیں، جبکہ بینکنگ اور ادائیگی کے نظام بھی ہیکرز کے نشانے پر رہے۔ مختلف خطوں میں حملوں کا انداز بھی مختلف رہا، مشرق وسطیٰ میں ای کامرس، افریقہ میں بینکنگ اور دیگر علاقوں میں متوازن حملے دیکھنے میں آئے۔
رپورٹ کے مطابق “انفوسٹیلر” نامی میلویئر نے سب سے بڑا کردار ادا کیا، جو صارفین کے پاس ورڈز، بینک کارڈ نمبرز، کوکیز اور دیگر حساس معلومات چرا کر ہیکرز تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح کے حملوں میں عالمی سطح پر 59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈارک ویب اب مالیاتی جرائم کا مرکز بن چکا ہے، جہاں چوری شدہ ڈیٹا کو فروخت کر کے فراڈ کو آسان بنایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام صارفین اور اداروں دونوں کو فوری احتیاطی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشکوک لنکس پر کلک نہ کریں، ویب سائٹس کو اچھی طرح چیک کریں، مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں اور دوہری تصدیق (ملٹی فیکٹر) کو لازمی اپنائیں۔ جبکہ کاروباری اداروں کو اپنی سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور جدید نگرانی کے نظام اپنانے کی تاکید کی گئی ہے۔















