اہم خبریں

یکم اپریل سے گندم خریداری شروع، جا نئے فی من قیمت کیا مقرر ہو ئی

کراچی(اے بی این نیوز) سندھ حکومت نے گندم خریداری مہم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم اپریل سے صوبے بھر میں سرکاری سطح پر گندم کی خریداری شروع کر دی جائے گی، جبکہ اس سال گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے کسان دوست پالیسی کے تحت یہ اقدام اٹھایا ہے، جس کا مقصد کاشتکاروں کو براہ راست فائدہ پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

مخدوم محبوب الزمان کے مطابق گندم صرف ان کاشتکاروں سے خریدی جائے گی جو رجسٹرڈ ہاری کارڈ کے حامل ہوں گے، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور اصل کسانوں تک فائدہ پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار خریداری کے عمل میں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے گزشتہ سال کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024 میں سندھ حکومت نے 40 کلو گندم کی قیمت 4000 روپے مقرر کی تھی جبکہ اس وقت پنجاب نے گندم خریدنے سے انکار کر دیا تھا، جس سے کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں پنجاب کو نجی شعبے کے ذریعے گندم خریدنا پڑی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ایک منفی تاثر دیا گیا کہ محکمہ خوراک کو ختم کر دینا چاہیے، تاہم عملی طور پر یہ ثابت ہوا کہ گندم کی خریداری، ذخیرہ اور بروقت ریلیز کرنا عوام اور کسان دونوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں گندم کی قیمت 3000 سے 3250 روپے کے درمیان رہی جبکہ تقریباً نو لاکھ ٹن گندم سسٹم میں آئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے عوام کو 84 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی اور ایک ملین میٹرک ٹن گندم مارکیٹ میں ریلیز کی گئی تاکہ قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔

محکمہ خوراک سندھ کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے مخدوم محبوب الزمان نے بتایا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات کیے گئے، جن کے تحت بے ضابطگیوں پر 43 افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، 22 کو معطل جبکہ 9 کو برطرف کیا گیا۔

دوسری جانب صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ حکومت کسانوں کو براہ راست سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا میں گندم کی چوری یا غائب ہونے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوے حقائق کے منافی ہیں۔

حکام کے مطابق نئی گندم پالیسی کے تحت شفاف خریداری، بہتر ذخیرہ اندوزی اور بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ کسانوں کو مناسب معاوضہ ملے اور عوام کو سستی گندم دستیاب ہو سکے۔

مزید پڑھیں :فضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس ، بڑے انکشافات، لاکھوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے کا دعویٰ

متعلقہ خبریں