راولپنڈی ( اے بی این نیوز ) پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق کے تازہ اور تفصیلی اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں، سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے شدت پسند نیٹ ورکس کو نہ صرف کمزور کیا بلکہ ان کی جنگی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق اب تک فتنہ الخوارج اور افغان طالبان سے وابستہ 707 دہشتگرد ہلاک جبکہ 938 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جو اس آپریشن کی شدت اور کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق زمینی اور فضائی دونوں محاذوں پر بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ 255 چوکیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ 44 اہم پوسٹس پر کنٹرول حاصل کیا گیا، جس سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا۔ اس کے ساتھ ساتھ 237 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کر دی گئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشتگردوں کے پاس بھاری ہتھیاروں کی بڑی مقدار موجود تھی۔
فضائی کارروائیوں کے دوران افغانستان میں 81 دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ڈرون سٹوریج، اسلحہ ڈپو، تربیتی مراکز اور تکنیکی سہولیات کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔ 16 مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں ہونے والی کارروائیاں خاص طور پر اہم رہیں، جہاں گولہ بارود کے بڑے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں ہونے والے دھماکوں نے وہاں موجود اسلحے کی شدت کو واضح کر دیا۔
پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ہر کارروائی مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور ان کا ہدف صرف دہشتگردوں کا انفراسٹرکچر تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی عام شہری، رہائشی علاقے یا عوامی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا، اور سویلین ہلاکتوں سے متعلق پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔
ترجمان کے مطابق دہشتگرد عناصر اکثر سویلین لباس میں چھپ کر کارروائیاں کرتے ہیں اور بعض صورتوں میں مذہبی مقامات اور عوامی تنصیبات کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے کو سفاکیت کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معصوم نمازیوں اور بچوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشتگرد تنظیموں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے جہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ گرفتار دہشتگردوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں سرحد پار تربیتی کیمپس میں تربیت دی جاتی تھی۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بعض بیرونی عناصر ان گروہوں کو جدید ہتھیار اور ڈرون فراہم کر رہے ہیں تاکہ خطے میں بدامنی کو فروغ دیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ یہ جنگ پاکستان پر تھوپی گئی، اور ملک اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں کسی ملک یا عوام کے خلاف نہیں بلکہ صرف دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہیں۔
ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اور اس میں سکیورٹی فورسز اور عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد نیٹ ورکس کو منظم انداز میں ختم کیا جا رہا ہے، ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، سرنگیں، پناہ گاہیں اور اسلحہ ذخائر تباہ کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطرے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جس کے باعث دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور غیر قانونی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور برادر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا۔
مزید پڑھیں :بڑی خبر ،ایران کی امریکہ کو مذاکرات کی مشروط پیشکش















