تہران ( اے بی این نیوز ) مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اہم مؤقف پیش کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکا سے کسی بھی قسم کے مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہوں گے جب پائیدار امن قائم کیا جائے اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ موجودہ جنگ دراصل ایران کی نہیں بلکہ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اور یہ جنگ امریکی عوام کی نہیں بلکہ ان کی حکومت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں میں رہائشی عمارتیں، اسکول، اسپتال اور بینک متاثر ہوئے، تاہم ایران نے کسی بھی پڑوسی ملک کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ علی لاریجانی اور دیگر اہم شخصیات کی شہادت کے باوجود ایران کا نظام متاثر نہیں ہوگا اور ملک کا سیاسی ڈھانچہ مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات تک محدود رکھی جا رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی شہریوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی سفارتی پیش رفت میں قومی مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جوہری پالیسی میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں اور ملک پرامن مقاصد کیلئے جوہری توانائی کے حصول کا عمل جاری رکھے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ چین سمیت دیگر ممالک اس بحران کے حل کیلئے ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی یہ مؤقف بھرپور بحث کا موضوع بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں :سعودی عرب میں عید الفطر جمعہ 20 مارچ کو منائی جائے گی















