اسلام آباد (اے بی این نیوز) قانون دان فیصل چودھری نے کہا ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی قانونی و سیاسی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے ادارے پر عائد ایک لاکھ روپے جرمانہ دراصل پراسیکیوشن کے مؤقف پر سوالیہ نشان ہے اور اس سے کیس کی نوعیت اور تیاری پر بھی کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق عدالت کا قیمتی وقت ضائع ہوا اور یہ معاملہ قانونی حلقوں میں مزید بحث کو جنم دے گا۔
فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن کمزور کیس کے ساتھ عدالت میں گئی جس کی وجہ سے عدالتی کارروائی کے دوران کئی نکات واضح ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالتی فیصلے کی مکمل تفصیلات سامنے آئیں گی تو اس کیس کے حوالے سے مزید حقائق بھی واضح ہو جائیں گے اور قانونی ماہرین اس پر مزید تفصیلی رائے دیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتی کارروائی کے بعد قانونی ٹیم کا ردعمل سامنے آ چکا ہے، تاہم بعض وکلا کی غیر حاضری پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی اہم کیس میں وکیل پیش نہ ہو تو اس سے حکمت عملی پر بھی اثر پڑتا ہے اور ایسے معاملات میں ٹیم کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑتی ہے۔
فیصل چودھری نے سیاسی پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی نوعیت کے مقدمات صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ سیاست کے میدان میں بھی لڑے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی جماعت کے لیے مضبوط بیانیہ بنانا انتہائی ضروری ہوتا ہے اور یہی چیز عوامی رائے کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کو صرف عدالتوں پر انحصار کرنے کے بجائے سیاسی سطح پر بھی واضح حکمت عملی بنانی ہوگی۔
اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والے بہت نظر آتے ہیں لیکن عملی میدان میں ان کی موجودگی کم دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عوام کے سامنے مضبوط مؤقف اور واضح بیانیہ پیش کرنا چاہیے تاکہ سیاسی جدوجہد مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
ملک اس وقت ایک سیاسی بحران سے گزر رہا ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک واضح ایگزٹ اسٹریٹجی کی ضرورت ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے قومی حکومت کی تجویز بھی زیر بحث ہے، تاہم اصل ضرورت یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر بحران کے حل کے لیے مشترکہ راستہ تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے باوجود ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم نہیں ہو سکا اور آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں :ایف بی آر کا بڑا فیصلہ،چھٹی ختم، دفاتر جمعہ کے روز بھی کھلیں گے، نوٹیفکیشن جاری















