بیت المقدس ( اے بی این نیوز )اسرائیلی حکام نے مبینہ راکٹ خطرے کے پیش نظر مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے بند کر دیا جس کے بعد فلسطینیوں نے جمعہ کی نماز سڑکوں پر ادا کی۔ یروشلم کے پرانے شہر میں بڑی تعداد میں نمازی مسجد اقصیٰ کے اطراف جمع ہوئے جبکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری بھی تعینات رہی۔
مقامی شہری ابو محمد زغاری نے بتایا کہ موجودہ حالات میں مسجد اقصیٰ بند ہونے کے باعث انہوں نے دکانداروں اور راہگیروں کے ساتھ مل کر سڑک پر ہی نماز جمعہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مسلمانوں کے لیے جمعہ کی نماز ایک اہم مذہبی فریضہ ہے۔
اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا کہ سکیورٹی صورتحال کے باعث پرانے شہر میں تمام مقدس مقامات تک رسائی عارضی طور پر بند کی جا رہی ہے تاکہ نمازیوں اور زائرین کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایران کی جانب سے مبینہ راکٹ حملوں کے خدشے کے باعث کیا گیا۔
ادھر خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے جس کے بعد تہران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اہداف پر جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ اس کشیدگی کے باعث خلیجی خطے کے مختلف ممالک میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مزید پڑھیں :چین نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیدیا















