واشنگٹن ( اے بی این نیوز) امریکی محکمہ دفاع کی اندرونی بریفنگ سے متعلق دعوے سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ اسلحہ کے ذخائر محدود ہیں اور کسی طویل جنگی صورتحال کی صورت میں لاجسٹک دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ پہلے ہی عوامی بیانات میں اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھی تو جنگ کو جلد اور محدود رکھا جائے گا۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ طویل جنگی مہمات نہ صرف مالی بوجھ بڑھاتی ہیں بلکہ داخلی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی قیادت کی جانب سے سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو وہ طویل المدتی مزاحمت کی حکمت عملی اپنائیں گے۔امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگ صرف ہتھیاروں کی تعداد پر نہیں بلکہ سپلائی چین، اتحادیوں کی حمایت اور ٹیکنالوجی پر بھی منحصر ہوتی ہے۔ تاہم اگر ذخائر واقعی محدود ہوں تو کسی بھی طویل تنازع میں چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔
اسی پس منظر میں ٹرمپ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف وہ فوری اور فیصلہ کن کارروائی کے حامی بیانات دے چکے ہیں، دوسری جانب ایران کی طویل جنگ کی حکمت عملی کسی بھی منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ یہی تضاد واشنگٹن میں پالیسی سازوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
مزید پڑھیں :ڈاگ فائٹ ،ایران نے اسرائیلی طیارہ مار گرایا















