دوہا ( اےبی این نیوز )قطر کے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی خبروں کے بعد صورتحال پر اہم وضاحت سامنے آگئی ہے۔ قطر کی وزارتِ دفاع کے سرکاری بیان کے مطابق ایرانی حملوں کو ضرور ناکام بنایا گیا، تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض دعوے درست نہیں ہیں۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق قطری فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے ڈرونز اور میزائلوں کو فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ٹریک کرکے تباہ کردیا۔ حکام نے کہا کہ تمام خطرات کو بروقت کارروائی کے ذریعے روک لیا گیا اور ملک کی فضائی سلامتی برقرار رکھی گئی۔
قطری وزارت دفاع نے یہ تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملوں میں میزائل اور ڈرون شامل تھے، لیکن کسی ایرانی لڑاکا طیارے کو مار گرانے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ اسی طرح دو ایرانی ایس یو چوبیس طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کسی مستند سرکاری یا عالمی خبر رساں ادارے سے ثابت نہیں ہوا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر میزائل حملے کیے گئے جن میں درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال ہوئے، جن کی اکثریت کو قطری دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کردیا۔ چند میزائل فوجی تنصیبات کے قریب گرے جبکہ محدود جانی و مالی نقصان بھی رپورٹ ہوا، تاہم کوئی بڑی تباہی نہیں ہوئی۔علاقائی کشیدگی کے باوجود قطر نے جنگ میں باقاعدہ شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا بلکہ اپنی پوزیشن دفاعی قرار دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات صرف قومی خودمختاری اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے کیے جارہے ہیں، نہ کہ کسی جارحانہ فوجی اتحاد کا حصہ بننے کے لیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دفاعی ردعمل تیز ضرور ہوا ہے، مگر اب تک ایسی کوئی تصدیق موجود نہیں کہ قطر نے ایران کے خلاف براہ راست جنگی کارروائی شروع کردی ہو۔
مزید پڑھیں :افغان طالبان کو دوٹوک فیصلہ کرنا ہوگا وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا دہشت گرد گروہوں کیساتھ















