اسلام آباد (اے بی این نیوز)ملک کے مختلف ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس پر سائبر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد سائبر سیکیورٹی ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق بعض نشریاتی اسٹریمز اور آن لائن پلیٹ فارمز کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی جس سے عارضی خلل پیدا ہوا۔نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق 2 سے 3 آئی ایس پیز کی اسٹریمز متاثر ہوئیں جبکہ ایک نجی ٹی وی چینل اور دو موبائل ایپلیکیشنز کی ہیکنگ کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں سائبر حملے کی نوعیت اور ذرائع کا تعین کیا جا رہا ہے، جبکہ متاثرہ سسٹمز کو بحال کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حساس حالات میں اس نوعیت کی کارروائیاں معلوماتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔سوشل میڈیا پر اس خبر کے بعد صارفین کی جانب سے آن لائن سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل تحفظ کے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ادھر مینجنگ ڈائریکٹر جیو نیوز اظہر عباس نے کہا ہے کہ ہم اپنےناظرین کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ جیو نیوز جو پاکستان کے سیٹلائٹ پاک سیٹ پر ہے،اس کو کسی جانب سے پچھلے چوبیس گھنٹوں سے ہیک کرنے کی اور اس کی نشریات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہےاور اب کچھ دیر سے جیو نیوز کی نشریات کو مسلسل رکاوٹ کا سامنا ہے،جیو نیوز کی اسکرین کو ہیک کرکے نامناسب پیغام نشر کیا گیااس صورت حال کا جیو نیوز سے کوئی تعلق نہیں ہےجیو نیوز حکام سے درخواست کرتا ہے کہ اس صورت حال کا نوٹس لے کر فوری کارروائی کی جائے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سوشل میڈیا اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ایک متنازع اشتہار سامنے آیا ہے جس میں خود کو موساد سے منسوب کرتے ہوئے ایران کے عوام سے تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔اشتہار میں ایران میں موجود افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپنے ملک کی صورتحال سے متعلق مواد فراہم کریں تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے پیغامات معلوماتی جنگ یا نفسیاتی مہم کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، جن کا مقصد عوامی جذبات اور حالاتِ حاضرہ سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔سائبر سیکیورٹی ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم لنک یا مشکوک پیغام پر کلک کرنے سے گریز کریں اور ذاتی معلومات یا حساس مواد شیئر نہ کریں۔ ایسے پیغامات جعلی بھی ہو سکتے ہیں یا صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں :ٹی20 ورلڈ کپ،بھارت سیمی فائنل میں پہنچ گیا















