تہران ( اے بی این نیوز )نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک انتہائی منظم اور خفیہ انٹیلی جنس کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ہفتے کی صبح مبینہ طور پر سپریم لیڈر کی لوکیشن حاصل کر کے اسرائیل کے ساتھ شیئر کی۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر حملے کا وقت مختلف تھا تاہم اسرائیل اور امریکا نے مشترکہ مشاورت کے بعد حملے کا وقت تبدیل کیا۔ بتایا گیا ہے کہ صبح 9 بجے ایک اہم اجلاس جاری تھا جس میں اعلیٰ عسکری قیادت شریک تھی۔ اجلاس میں محمد پاکپور کمانڈر اِن چیف پاسدارانِ انقلاب، عزیز ناصر زادہ وزیر دفاع، علی شمخانی سربراہ ملٹری کونسل، سید مجید موسوی کمانڈر پاسدارانِ انقلاب اسلامی فضائیہ، اور محمد شیرازی نائب وزیر انٹیلی جنس بھی موجود تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ انتہائی درستگی کے ساتھ کیا گیا اور ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ تاہم اس حوالے سے امریکی یا اسرائیلی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔اس انکشاف کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں مختلف حلقے اس واقعے کو خطے کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں :ایران کا نیا سپریم لیڈر کون، وزیر خارجہ کا بڑا اعلان سامنے آگیا، جا نئے تفصیلات















