اہم خبریں

ایران کشیدگی،بظاہر ڈائیلاگ ایجنڈے میں شامل تھا، مگر اصل ہدف کچھ اور محسوس ہوتا ہے، اعزاز احمد چودھری

اسلام آباد (اے بی این نیوز) سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نےکہا کہ ایران کشیدگی کے معاملے میں مذاکرات کی بجائے دباؤ کی حکمت عملی غالب رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ بظاہر ڈائیلاگ ایجنڈے میں شامل تھا، مگر اصل ہدف کچھ اور محسوس ہوتا ہے۔

اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ ایران کچھ شعبوں میں رعایت دینے پر آمادہ تھا، تاہم میزائل پروگرام پر اس کا مؤقف سخت رہا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں طاقت کے توازن پر گہری نظر رکھی جانی چاہیے کیونکہ اسرائیل ایران کو اپنی سیکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج سمجھتا ہے۔

سابق سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے ایران کی حکومت پر مختلف نوعیت کا دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایران کے اندر احتجاجی لہر بھی دیکھی گئی مگر نظام برقرار رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دباؤ کے ذریعے داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے خدشات موجود تھے، اور کچھ حلقے خطے کی صورتحال کا موازنہ عراق میں ماضی کی تبدیلیوں سے کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا کشیدگی محدود رہے گی یا خطہ کسی بڑے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے، اور کہا کہ آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے جہاں ایران کے ردعمل اور عالمی طاقتوں کے کردار پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی۔

اعزاز چودھری نے کہا کہ ایران میں متعدد طاقتور ادارے موجود ہیں اور پاسداران کی قیادت سب سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ انہوں نے اقتصادی بحران اور مہنگائی کو عوام پر شدید دباؤ قرار دیا اور بتایا کہ 15 لاکھ ریال کی قدر پہلے ایک ڈالر کے برابر تھی، مگر اب مہنگائی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

انہوں نے تاریخی طور پر ایران کو اسرائیل کے خلاف خطے میں ایک طاقت کے طور پر دیکھا، اور کہا کہ عراق اور شام میں ایران کی اثرورسوخ کم ہونے کے بعد داخلی کنٹرول میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر پاسداران یا مرکزی قیادت ختم ہو جاتی ہے تو ایران میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے، اور اس کمزوری سے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے اور بین الاقوامی اثرات پیدا ہوں گے۔

اعزاز چودھری نے پاکستان کے لیے ممکنہ چیلنجز میں سرحدی تحفظ، توانائی کے راستے، اور سیاسی دباؤ کو شامل کیا اور کہا کہ نئی عسکری اور اقتصادی پوزیشنوں کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان کو محتاط اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے بھارت اور ایران کے ساتھ سرحدی تعلقات مستحکم ہیں اور کوئی براہِ راست تنازع نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات دوستانہ ہیں اور سرحد کے قریب کوئی ہارٹمنٹ نہیں ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے ممکنہ حملوں سے دونوں ممالک کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ@ 8‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے فتنۃ الخوارج کے خلاف آپریشن کامیابی سے انجام دیا اور سیکیورٹی میں اضافہ کیا ہے۔ افغانستان میں طالبان اور علاقائی گروپوں کی سرگرمیاں خطے میں دباؤ پیدا کر سکتی ہیں۔

اعزاز چودھری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں براہِ راست تصادم کا کوئی امکان کم ہے۔ بین الاقوامی طاقتیں پاکستان کی مضبوطی اور دفاعی صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہیں۔ پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول اور سیکیورٹی نظام محفوظ اور جدید ٹیکنالوجی سے مستحکم ہے۔ پاکستان کی قوم اور ادارے اپنے دفاع اور علاقائی امن کے لیے متحد ہیں۔ عالمی اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال میں پاکستان کو مستحکم رکھنے کے اقدامات جاری ہیں۔

مزید پڑھیں :ایران کا امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن پر میزائل حملہ،چار بیلسٹک میزائل داغ دیئے

متعلقہ خبریں