اہم خبریں

معلوم نہیں حکومت میں موجود لوگ کس حد تک جارہے ہیں ،اعتزازاحسن

اسلام آباد ( اے بی این نیوز       )ماہر قانون اعتزازاحسن نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس سے ایم این ایز کو اغوا کیا گیا۔ وہاں سپیکرقومی اسمبلی کا کوئی رول نظر نہیں آیا۔ ذاتی طور پر شرمندہ ہوں کہ یہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔
ملک میں بنیادی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیلئے مشکلات میں اضافہ ہورہاہے۔ نوازشریف کے والد کہتے تھے دونوں چیف جسٹس اپنے مرضی کے ہونے چاہئیں۔ وہ اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ
میثاق جمہوریت میں سپریم کورٹ کو ادھیڑ کو رکھ دینا ہمارے تصور میں نہیں تھا۔ بانی پی ٹی آئی درست کہتا ہیں کہ یہ فارم 47کے ایم این ایز ہیں۔ 26ویں آئینی ترمیم کو 6مہینے تک ایوان میں زیربحث لانا چاہیے تھا۔
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو بھی گرفتار کیا گیا ۔ معلوم نہیں حکومت میں موجود لوگ کس حد تک جارہے ہیں ۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عرفان صدیقی سے ملاقات کے وقت ہمارا مسود ہ مکمل نہیں تھا۔ ؎ہمارا مسودہ تیار ہے مولانا صاحب طے کریں گے کہ شیئر کرنا ہے یا نہیں۔
ہمارا مسودہ انفرادیت پر مبنی نہیں ہیں۔ جے یوآئی کا مسودہ ہمارا اپنا تیار کردہ ہے۔ نمبرزپورے ہونے پر اجلاس کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ 76سال میں آج تک کوئی کام ہم اچھے طریقے سے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں :عمران خان سے اڈیالہ جیل میں وکلاء کی ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست کل سماعت کے لیے مقرر

متعلقہ خبریں