اسلام آ باد ( اے بی این نیوز ) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکل وقت گزر گیا۔ پاکستان دیوالیہ ہو نے سے بچ گیا۔ پچھلے دورے حکومت نے سیاست چمکانے کے لیے بڑی بڑی باتیں کی تھیں۔
وہ اسلام اباد میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پانی پی ٹی آئی کہتے تھے مر جاؤں گا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا ہم سب کی کاوشوں کی وجہ سے پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا ہے
انہوں نے کہا ماضی میں حلقہ احباب کی جیبیں بھری گئیں ۔ پی ٹی ائی نے اپنی حکومت کی خاطر ملک کو داؤ پر لگا دیا ہم سب کی کاوشوں سے پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی سیاست کو داؤ پر لگا کر ریاست کو بچایا۔
پچھلے دور حکومت میں سیاست چمکانے کیلئے بڑی بڑی باتیں کی گئیں۔ 90دن میں کرپشن خاتمے کے دعوے کئے گئے۔ ہم سب کی کاوشوں سے پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا۔ بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت پر ارکان قومی اسمبلی کا شکر گزار ہوں۔
پی ٹی آئی حکومت نے اپنی سیاست کی خاطر ملک کو داؤ پر لگایا۔ 190ملین پاؤنڈ کی رقم خزانے میں جمع کرانے کی بجائے خرد برد کی گئی۔
200یونٹ تک بجلی پر تین مہینے کیلئے رعایت دینے جارہے ہیں �.
کرپشن کاخاتمہ تو دور بلکہ اتنے بڑے بڑے سکینڈل آئے جو سب کے سامنے ہیں ۔ ماضی میں چینی اور گندم کو پہلے ایکسپورٹ پھر امپورٹ کیا گیا۔ ماضی کے دور میں حلقہ یاراں کی جیبیں بھری گئیں ۔ کہا گیا پاکستان سے لوٹا گیا 300ارب روپے لیکر آئیں گے ۔ لوٹی دولت کا ایک دھیلا بھی نہ آیابلکہ برطانوی ادارے کے تعاون سے 190ملین پائونڈ پاکستان آئے ۔
کہا گیا تھا کہ 90دن میں پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائیگا۔ 2022۔ 23میں ہم سب نے ملکر ریاست کو بچایا سیاست کو دائو پر لگایا۔ اللہ کا شکر ہے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا اور وہ مرحلہ گزر گیا۔ پاکستان میں 10لاکھ ٹیوب ویل ایسے ہیں جو تیل سے چلتے ہیں ۔
کسانوں کو آسان قرضہ فراہم کریں گے ۔ ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر لے کر آئیں گے ۔ وفاق اور بلوچستان حکومت نے ملکر28000ٹیوب ویلز کنکشن کا ٹنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
کل بلوچستان حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا ۔ گزشتہ 10سال میں قومی خزانے کے 500ارب روپے تباہ ہو گئے۔
تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگا جس کی بنیاد پر جائز احتجاج کیا گیا۔ پہلی بار حکومت نے ریئل اسٹیٹ پر ٹیکس پر ٹیکس لگایا ہے جو میرے نزدیک اور بھی لگنا چاہیے تھا۔ جو کروڑوں ڈالرز لے جاتے ہیں ان کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکس لگا ہے ۔
پاکستان کے 94فیصد گھریلوں صارفین میرے اعلان سے مستفید ہونگے ۔ 3ماہ میں ڈھائی کروڑ گھریلو صارفین کیلئے50ارب کی رقم خرچ ہو گی۔ ہم شبانہ روز محنت کریں گے ۔
آج دنیا میں سولر انرجی کم ترین قیمتوں پر مہیا ہے ۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے سورج جیسی نعمت سے مالا مال کیا ہے ۔ رعایت سے4سے 7روپے تک فی یونٹ والے 94فیصد صارفین کو فائدہ ہو گا۔ کراچی بندر گاہ پر امپورٹ میں سالانہ 12ارب کی چوری ہوتی ہے ۔
ہم نے اپنی سیاست کو داؤ پر لگا کر ریاست کو بچایا ۔ پچھلے دور حکومت میں سیاست چمکانے کیلئے بڑی بڑی باتیں کی گئیں۔ 90دن میں کرپشن خاتمے کے دعوے کئے گئے ۔ ہم سب کی کاوشوں سے پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا۔ بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت پر ارکان قومی اسمبلی کا شکر گزار ہوں۔
پی ٹی آئی حکومت نے اپنی سیاست کی خاطر ملک کو داؤ پر لگایا۔ 190ملین پاؤنڈ کی رقم خزانے میں جمع کرانے کی بجائے خرد برد کی گئی۔ ہم نے عوام سے کبھی غلط بیانی نہیں کی۔
بانی پی ٹی آئی کہتے تھے مر جاؤں گا لیکن آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا۔ ہم نے نوازشریف کی قیادت میں عوام کی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ سابق دور میں مہنگے ترین آئی ایم ایف پروگرام کو سیاست کی نذر کیاگیا۔ سابق دور میں کرپشن ختم ہونے کی بجائے بڑے بڑے سکینڈل سامنے آئے۔
ہمیں ہمالیہ نما چیلنجز کا سامنا ہے مل کر مقابلہ کریں گے۔ شمسی توانائی سے سستی بجلی پیدا ہو گی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔ آئی ایم ایف سے مل کر بجٹ بنانے میں کوئی راز کی بات نہیں۔ 10سال میں قومی خزانے کے 500ارب ضائع ہوئے۔ کوئی شک نہیں کہ بجٹ میں ٹیکسز لگے ہیں۔
موجودہ ٹیکسز سے 100ارب آمدن کی توقع ہے۔ اس بار بجٹ میں ان لوگوں پر ٹیکس لگایا جو ٹیکس نہیں دیتے تھے۔ پہلی بار رئیل سٹیٹ پر ٹیکس لگا۔ بجٹ میں ٹیکس لگے۔ لیکن اشرافیہ پرٹیکس پہلی بار لگا۔ سمجھتا ہوں کہ رئیل سٹیٹ سیکٹر پر مزید ٹیکس لگنا چاہئے۔
اگلے سال رئیل سٹیٹ پر ٹیکس کے حوالے سے مزید تیاری سے آئیں گے۔ 200یونٹ تک بجلی پر تین مہینے کیلئے رعایت دینے جارہے ہیں ۔ اس منصوبے پر 50ارب روپے خرچ ہوں گے۔
کے الیکٹرک سمیت تمام بجلی صارفین کو ریلیف دیا جائے گا۔ ہمارے پاس فارن ایکسچینج بہت محدود ہے۔ قوم سے کبھی غلط بات کی اور نہ کریں گے۔ حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر بچت پروگرام شروع کرے گی۔ایف بی آر کی سوفیصد ڈیجیٹائزیشن ہورہی ہے۔ حکومت نے اداروں میں ڈاؤن سائرنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اگر ہم نے آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرنی ہے تو خلوص نیت سے محنت کریں۔
مزید پڑھیں :خیبرپختونخوا پنشنرز کو ماہانہ رقوم کی ادائیگی ختم ، نئی اصلاحات نافذ















