اہم خبریں

جسٹس محسن اختر کیانی کا اپنی عدالت کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک)جسٹس اسلام آباد محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کا آرڈر میرے سامنے نہیں، ہم آئندہ اس عدالت کی کارروائی لائیو دکھائیں گے،یہ بہت مشکل وقت ہے، ہم سب ایک آدمی کیلئے نہیں بلکہ پورے ملک کیلئے کھڑے ہیں،گزشتہ تین سالوں میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے،ایک ٹیم جو کام کر کے گئی تھی دوسری ٹیم نے اسے ملزم بنا دیا ہے

،ہم عدالتی معاونین مقرر کرینگے، حامد میر صاحب سے بھی کہیں گے عدالت کی معاونت کریں،جسٹا محسن اختر کیانی کے اہم سوالات ،آئی ایس آئی کیسے کام کرتی ہے، اس کے ایس او پی کیا ہے۔ تفتیش کیسے کرتے ہیں۔ انفارمیشن کیسے اکٹھی کرتے ہیں۔ کتنے اخرجات ہوتے ہیں۔ سرکاری خزانے سے کتنا بجٹ جاتا ہے۔

اس ورکنگ کے نیچے سیکٹر کمانڈر کی کیا ذمہ داری ہے۔ سیکٹر کمانڈر کے نیچے کتنا سٹاف ہے؟سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو ملک میں مشکلات کا سامنا ہے،آپ کے ریمارکس کے بعد وزیر قانون نے پریس کانفرنس کی،پیمرا کا نوٹیفیکیشن ہے کہ عدالتی کارروائی نشر نہیں ہو گی،

جسٹس محسن اختر کی طبیعت ناساز، عمران خان نااہلی کیس ملتوی

نوٹیفیکیشن کے مطابق صرف لائیو سٹریمنگ کی رپورٹنگ کی جا سکے گی،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ،جو بھی مسنگ پرسن کا کیس اس عدالت میں لگے کا اس کی لائیو سٹریمنگ کی جائے گی، مسنگ پرسن کے کیسز میں لاجر بنچ بننا چاہے تا کہ معاملہ حل کیا جا سکے
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏اب ہم نے طے کرنا ہے کہ ایجنسی کہیں چھپ کر بیٹھی نہیں ہوگی یا وہ سامنے نظر آئے گی۔ یہ وردی والے کیوں کھڑے ہیں ، یہ پاگل ہیں؟ ہر ادارہ جوابدہ ہے۔ ججز، پولیس پارلیمنٹ ،تمام ادارے جوابدہ ہیں۔ کوئی جج اپنا کام کر کے احسان نہیں کر رہا ، ہم نے لوگوں کے مسائل حل کرنا اور ان حقوق کا تحفظ کرنا ہے ۔” عدلیہ اداروں کے ماتحت نہیں ہے وہ ماتحت لانے کی کوشش بھی نا کریں جب جب کوشش ہوئی خوفناک نتائج آئے ”

متعلقہ خبریں