کراچی(نیوزڈیسک)مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں نظریاتی سیاست ختم ہوگئی، معیشت اور سیکیورٹی وینٹی لیٹر پر ہے۔ میاں صاحب نے کہا تھا’’ بیگرز کانٹ بی چوزر‘‘ پوچھتا ہوں انہوں نے یہ کہنے سے قبل استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ جس مقصد کےلیے پاکستان بنا تھا اسی پر لانے کی ضرورت ہے، کوشش ہماری ہونی چاہیے کہ مسائل کو حل کرنے کی طرف جائیں۔مرکزی مسلم لیگ کے بعد جی ڈی اے اور دیگر پارٹیوں سے بھی ملاقات کررہا ہوں، لیول پلیئنگ فیلڈ سب کو ملنی چاہیے۔عوام ووٹ نہیں دیں گے تو سیاست دانوں کو سمجھ آجائے گی، لگتا ہے میاں صاحب اور بلاول بھٹو زرداری ہی وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔ اگر مجھے الیکشن کمشنر بنادے تو ہی بتا سکوں گا کہ الیکشن ہو رہے یا نہیں، سب مل کر دعا کریں کہ ہمیں بھی سپورٹ مل جائے۔کچھ لوگ بیانیہ بناتے بناتے کہاں سے کہاں پہنچ گئے، چیف جسٹس کو چاہیے جنہوں نے سینیٹ میں قرار دار پاس کی ہے ان کو بھی بلائیں۔چیف جسٹس پرانے کیس کھول رہے ہیں، جو محلات بک گئے، سونا برآمد ہوا اس پر بھی انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔کراچی میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ (پی ایم ایم ایل) کے نائب صدر فیصل ندیم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعجاز الحق نے کہا کہ ہم نے قومی یکجہتی اتحاد کے پلیٹ فارم سے متحد ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کچھ اور بھی جماعتوں سے باتیں چل رہی ہیں، چارٹر آف ڈیموکریسی نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔اعجاز الحق نے مزید کہا کہ نظریاتی سیاست پاکستان میں ختم ہوگئی ہے، جو کہتے تھے ساتھ نہیں ملائیں گے، انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو گلے لگایا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت اور سیکیورٹی وینٹی لیٹر پر ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات کی طرف دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں نورا کشتی چل رہی ہے، الیکشن کے بعد پھر سے پی ڈی ایم ٹو بن جائے گا، پی ٹی آئی کو بلا مل گیا، اس کا مطلب اچھی خبریں شروع ہوگئی ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، روز مرہ کے بنیاد پر نوجوان شہید ہو رہے ہیں۔















