اسلام آباد (اے بی این نیوز)سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کی برا ہ راست سماعت، کمرہ عدالت میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کا انٹرویو چلا دیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریما رکس میں کہا کیا عدالت ایک انٹرویو کی بنیاد پر انکوائری کرے؟ انٹرویو ایک جج کا تھا جبکہ بینچ میں دیگر ججز بھی تھے، ہم صرف ایک انٹرویو کی ویڈیو دیکھ کر تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہوا تھا، آرٹیکل 186 کے تحت عدالت صرف قانونی سوالات پر رائے دے سکتی ہے،واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی،،چیف جسٹس نے ریما رکس میں کہا اس کیس میں ایک جج کی رائے کو نظر انداز نہیں کر سکتے،،ایک جج کے اکثریتی ووٹ کے تناسب سے پھانسی دی گئی،،عدالت نے کیس کی مزید سما عت فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتو ی کر دی۔















