اہم خبریں

ہمارا تعلیمی نظام، سال کے 365 دنوں میں سکول صرف 90دن سکول کھلتے ہیں،ہو شربا رپورٹ

اسلام آباد ( اے بی این نیوز   ) ہمارے ملک میں تعلیم نظام کا اللہ ہی مالک ہے یہدنیا کا واحد ملک ہے جہاں سکولوں میں اتنی وسیع بنیادوں پر چھٹیاں ہو تی ہیں کی بچے پڑھنا اور لکھنا ہی بھول جاتے ہیں،حال ہی میں دیکھ لیں کے موسم سرما کی چھٹیاں کتنی طویل ہو چکی ہیں، کمال حیرانگی کی با ت یہ ہے کہپنجاب اور کے پی میں سکولوں کی چھٹیاں ہو رہی ہیں کہ موسم بہت سرد ہے مگر اسلام آباد میں تمام سرکاری سکول کھلے ہیں کیا اسلام آباد میں سردی نہیں پڑ رہی،یہ ہے ملک کا دہرا نظام، جڑواں شہر راولپنڈی میں سکول بند ہیں اور اسلام آباد میں کھلے ہیں،ہم تعلیم میں دوہرا معیار دے کر آخر قوم کے نو نہالوں کو کس راستے پر گامزن کر رہے ہیں،اگر دیکھا جائے تو پنجاب میں سکول سال بھر کے دوران گرمیوں کی چھٹیوں کو شامل کیا جائے تو یہ بمشکل تمام صرف نوے دن کھلتے ہیں،جب 365 دنوں میں تعلیمی ادارے صرف نوے دن کھلیں گے تو اس ملک کا تعلیمی معیار کیا ہو گا، تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ چھٹیاں 219دن بنتی ہیں، یہ اتنا بڑا ظلم نوجوان نسل کے ساتھ کیا جارہا ہے کہ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان دو سو انیس چھٹیوں میں سردی کی،عید کی،14اگست،23مارچ، ہفتہ وار،تین امتحان فی امتحان نو چھٹیاں،سکول فنگشنز و دیگر چھٹیاں،بارش حاضری کا کم ہونا،رزلٹ وغیرہ اور دگر دن شام کر کے یہ چھٹیاں دو سو انیس دن کے لگ بھگ بن جاتی ہیں، یورپ اور امریکہ میں سکول کا بچی تین دن چھٹی کر لے تو اس کے بارے باقاعدی پوچھ گچھ کی جاتی ہے،ہمارے یہاں اول تو سکول اتنے طویل بند ہو تے ہیں اور بچے چھٹیاں کر لیں تو ان کی کو ئی باز پرس نہیں ہو تی،اہم سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کے سرکاری سکول کھلے ہیں،پرائیویٹ سکول بند ہیں،ایک ہی شہر میں یہ دوہراس معیار اپنایا جا رہا ہے، متعلقہ حکام کو اس جانب توجہ د ینا ہو گی کیونکہ سارے ملک کی ترقی کا دارومدار ہی اعلیٰ تعلیم پر ہے، لہذا ایسا نظام وضع کر نا ہو گا جس میں چھٹیاں کم سے کم ہوں اور سکولوں میں باقاعدہ تعلیم نظام ہو اور پھر پورے ملے میں بھی تعلیم نظام ایک ہو نا چا ہیئے۔

متعلقہ خبریں