امریکی سیاست میں ایک بار پھر مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں سابق امریکی صدر Barack Obama نے اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کی حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اپنے بیان میں اوبامہ نے کہا کہ اسرائیلی قیادت کی ایران سے متعلق پالیسی ہمیشہ سے سخت اور فوجی تصادم کی طرف مائل رہی ہے، جس کی انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں بھی مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے اپنے مؤقف کو مختلف ادوار میں امریکی قیادت کے سامنے پیش کیا، حتیٰ کہ موجودہ امریکی صدر Donald Trump کے سامنے بھی وہی دلائل رکھے گئے، تاہم وہ ان پالیسیوں سے متفق نہیں تھے۔
نائب صدر کے قافلے سے گزرنے کے بعد مسلح شخص نے وائٹ ہاؤس کے قریب گولی مار دی۔
اوبامہ کا کہنا تھا کہ ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کا واضح ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اسرائیلی قیادت کی ان پالیسیوں سے آخرکار کس حد تک اسرائیل اور امریکا کے مفادات کو فائدہ پہنچا۔















