واشنگٹن سے آنے والی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے ایران کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل میں اہم ترامیم پیش کر دی ہیں، جن میں جوہری مسئلہ کو معاہدے کا بنیادی اور مرکزی نکتہ قرار دیا ( iran nuclear deal )گیا ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا نے اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران مذاکرات( us iran talks ) کے مکمل ہونے تک کسی بھی صورت میں جوہری سرگرمی دوبارہ شروع نہ کرے۔ نئی ترامیم میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ ایران ان مقامات سے افزودہ یورینیم کی منتقلی نہیں کرے گا جو پہلے حملوں سے متاثر ہوئے تھے۔
افسوسناک خبر،سنی تحریک کے راہنما پر حملہ،فائرنگ،شدید زخمی
مزید کہا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران ایران کو ان حساس تنصیبات پر کسی بھی قسم کی جوہری سرگرمی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جسے امریکا معاہدے کی کامیابی کیلئے لازمی قرار دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سخت شرائط دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں، تاہم ساتھ ہی یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پس پردہ سفارتی رابطے مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔















