اہم خبریں

تحریک انصاف کو سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی ضرورت ہے، اسدعمر

اسلام آباد (  اے بی این نیوز      ) سابق وزیرخزانہ اسدعمرنے اےبی این کےپروگرام’’سوال سےآگے‘‘میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ فوج نے ماضی میں آئینی دائرہ کار سے بڑھ کر کردار ادا کیا۔ بانی خود کہہ چکے، بجٹ پاس کرانے کیلئےفوج کی مدد لی جاتی تھی۔ بجٹ پاس کرانا فوج کا آئینی کردار نہیں۔ ماضی میں بھی فوج کا کردار تھا، سب تسلیم کرتے ہیں۔ موجودہ صورتحال ماضی سے زمین آسمان کا فرق رکھتی ہے۔ فوج کا کردار اب بحث کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔
بعض ارکان کو لاجز سے لاکر ووٹ ڈلوائے گئے۔ بانی پی ٹی آئی فیصلہ کرنے سے پہلے مشورہ لیتے تھے۔ آخری فیصلہ ہمیشہ بانی پی ٹی آئی خود کرتے تھے۔ جمہوریت مضبوط اداروں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ پاکستان کے دفاعی اداروں نے اپنی کارکردگی ثابت کی ہے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا جمہوریت کے کلیدی ستون ہیں۔ آج یہ تینوں ادارے انتہائی کمزور ہیں۔ کمزور بنیادیں جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہیں۔
کمزوریوں کو دور کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اداروں اور نظام کی شدید کمزوری ہے۔ بڑے عالمی ادارے پاکستان سے اپنے آپریشنز ختم کر رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں آپریشنز بند کرنا شروع کیے۔ یہ نقصان ملکی معیشت اور سیاست دونوں کیلئے خطرناک ہے۔ 2008سے سیاسی نظام میں عدم استحکام اور کمزوری جاری ہے۔ ہر حکومت کے دور میں غیر یقینی صورتحال نے ملکی ترقی کو متاثر کیا۔
قرضوں میں کمی کے آثار نہیں، آسمان چھو رہے ہیں۔ بجٹ کے باوجود ایم بی اے کے ریونیو میں اربوں روپے کا شارٹ فال۔ سندھ کی معیشت کے لیے ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ تحریک انصاف کو سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی ضرورت ہے۔ لاہور کے سیاسی رہنماؤں کے مشورے پر عمل درآمد اہم ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو بڑی سیاسی قوتوں کی بات سننی چاہیے۔
حکومت کی اولین ذمہ داری ہے پارلیمنٹ میں اچھا ماحول بنانا۔ سیاسی بحران کے حل کے لیے رابطے بڑھانا ضروری۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان ثالثی کا نظام بنانا چاہیے۔ دہشت گردی کے مقدمات عدالتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ حکومت مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت اپنا کام بیک وقت جاری رکھے گی۔ تحریک انصاف اپنی علیحدہ تحریر بھی آگے بڑھا رہی ہے۔ وزیرمملکت برائے قانون وانصاف بیرسٹرعقیل ملکنے کہا کہ
بانی پی ٹی آئی کوسمجھ آرہی ہےسیاسی جماعتوں سے بات کرنی پڑےگی۔ پی ٹی آئی کو لگا حکومت بلف کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی اس وقت شاید سنجیدہ نہیں تھی۔ حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ بیٹھکیں کیں۔ ڈیڑھ 2 سال سے معاملات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں۔ حالات میں اندھیرا اور مشکلات نظر آ رہی ہیں۔ جمہوری رویوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ مسائل کا حل جمہوریت کے ذریعے تلاش کرنے کی وکالت کرتاہوں۔
اپوزیشن احتجاج کرےہم نےکبھی کسی کومنع نہیں کیا۔ احتجاج کی آڑمیں کسی کومعافی نہیں مل سکتی۔ اپوزیشن توڑپھوڑکرےگی توقانون حرکت میں آئےگا۔ ہم لوگ کمیٹیوں میں سنجیدگی سے شریک رہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سب سنجیدگی دکھائیں۔ عوام کی خاطرکھلےدل کیساتھ سب کوساتھ بیٹھنےکی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی اس وقت شاید سنجیدہ نہیں تھی۔ پی ٹی آئی کو لگا حکومت بلف کر رہی ہے۔ حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ بیٹھکیں کیں۔
ہم لوگ کمیٹیوں میں سنجیدگی سے شریک رہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سب سنجیدگی دکھائیں۔ ملک کی بہتری کیلئے سیاسی جماعتوں کو کھلے دل سے بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے ڈی سیٹ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا گیا۔ اپوزیشن احتجاج کرے، روک نہیں سکتے، لیکن قانون شکنی برداشت نہیں۔ کوئی رکن پارلیمنٹ قانون سے بالاتر نہیں۔ نیشنل اسمبلی میں سپیکر کا ساؤنڈ سسٹم تباہ کیا گیا، لاکھوں کا نقصان ہوا۔ اگر احتجاج حدود پار کرے گا تو قانون حرکت میں آئے گا۔
مزید پڑھیں :دالبندین بائی پاس سے افسوسناک خبر آگئی، جا نئے کتنا جانی و مالی نقصان ہوا

متعلقہ خبریں