اہم خبریں

انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے تحفظات

اسلام آباد (اے بی این نیوز    )انتخابی اصلاحات کا مسودہ تیار،انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے انتخابی اصلاحات کی متعدد شقوں پر تحفظات کا اظہار کر دیا،ایم کیو ایم نے کراچی کی حلقہ بندیوں پر اعتراضات اٹھائے کراچی کی پرانی مردم شماری و حلقہ بندیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ،پاکستان پیپلزپارٹی نے ریٹرننگ افسران کو مزید بااختیار بنانے اور نتائج کی تاخیر پر بھی تحفظات ،پاکستان پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا کہ آر ٹی ایس سسٹم کو موثر، ریٹرننگ آفیسر کو اکاونٹیبل بنایا جائے،پارلیمانی کمیٹی میں الیکشن اصلاحات بارے مزید ترامیم شامل کر دی گئیں،
الیکشن ایکٹ میں بڑھنے پیمانے پر ترامیم ،وزارت قانون نے سر پکڑ لیا،محدود وقت میں بڑے پیمانے پر قانون سازی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو 28 جولائی تک قانون سازی مکمل کرنے کا مشورہ بھی دیا،وزارت قانون نے مؤقف دیا کہ انتخابی اصلاحات میں 200 سے زائد ترامیم کو قانونی شکل دینا آسان نہیں، زرائع کے مطابق ترامیم فائنل ہونے پر قانونی شکل دینے میں وقت بھی درکار ہے،قائمہ کمیٹی نے سینیٹ ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لئے قانونی تبدیل کرنے پر اتفاق کیا،جس کے مطابق نشست کیلیے تعلیمی قابلیت کے علاوہ بیس سال کا تجربہ بھی درکار ہوگا،اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پولنگ ڈےسے 5روز قبل پولنگ اسٹیشن تبدیل نہیں کیاجاسکے گا،انتخابی اخراجات کے لئے امیدوار پہلے سے زیر استعمال بینک اکاؤنٹ استعمال کرسکیں گے، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اور قوائد و ضوابط سے متعلق ایجنڈا کل تک مؤخر کردیا گیا،پارلیمانی کمیٹی نے وزارت قانون کو الیکشن ایکٹ کے ترمیمی مسودہ کو کل تک حتمی شکل دینے کی ہدایت کر دی، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کل کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں