اہم خبریں

پاکستان کیساتھ کام کیلئے تیار مگر سرمایہ کاروں کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا،، ڈائریکٹر آئی ایم ایف

اسلام آباد (اے بی این نیوز) ڈائریکٹر آئی ایم ایف کمیونی کیشن جولی کوزیک نے کہا کہبین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کی ڈائریکٹرکمیونیکیشن جولی کوزیک کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ بارہ جولائی کو ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کیلئے تین ارب ڈالر کی منظوری دی، آئی ایم ایف ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہے۔پاکستانی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہوگی ۔جولی کوزیک کا کہنا تھا کہ 12 جولائی کو ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کیلئے 3 بلین ڈالر کی منظوری دی، پاکستان کو فوری ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز جاری کر دیئے گئے۔ نیا پروگرام معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے حکام کی فوری کوششوں کو سہارا دے گا۔ڈائریکٹر آئی ایم ایف کمیونی کیشن نے کہا کہ نیا پروگرام معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے حکام کی فوری کوششوں کو سہارا دے گا، آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے لوگوں کی مدد اور حمایت کیلئے اہم ہو گا۔آئی ایم ایف ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنے اور ادائیگیوں کے موجودہ توازن کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اتھارٹی کی فوری کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔جولی کوزیک کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اصلاحات کی ضرورت ہوگی، مستحکم پالیسی پر عمل درآمد اہم ہے، سرمایہ کاروں کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے لوگوں کی مدد اور حمایت کیلئے اہم ہو گا۔ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہےاصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ مستحکم پالیسی پر عمل درآمد اہم ہےسرمایہ کاروں کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔جولی کوزیک نے کہا کہ نیا پروگرام معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستانی حکام کی کوششوں کو سپورٹ کرے گا۔ انتہائی کمزورو پسماندہ طبقے کے لیے مناسب تحفظ کے ساتھ اور حکومت پاکستان کی پالیسیوں کی حمایت کے لیے کثیر جہتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے مالی اعانت کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ آنے والے عرصے میں مستحکم پالیسی پر عمل درآمد اہم ہے۔ اگرچہ یہ نسبتاً ایک مختصر پروگرام ہے لیکن یہ پاکستان کو ملکی بیرونی اقتصادی صورتحال کو مضبوط بنانے کے لیے اہم پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے وقت فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے ڈھانچہ جاتی چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے ممکنہ طور پر درمیانی مدت میں مسلسل اصلاحات کی ضرورت ہو گی تاکہ درکار معاشی تبدیلیوں کو تقویت دی جا سکے۔ ہم ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی حکومت کے ساتھ استحکام اور معاشی استحکام کی بحالی کی کوششوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

متعلقہ خبریں