اہم خبریں

وفاقی بجٹ 24-2023 کا مجموعی حجم 144 کھرب 60 ارب مختص، خسارہ 75 کھرب 73 ارب ہوگا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35فیصد،پینشن میں17.5 فیصد اضافہ

اسلام آباد ( اے بی این نیوز   )پی ٹی آئی کی حکومت نے غیر سنجیدہ رویوں کی وجہ سے توانائی کا شعبہ بدترین بحران کا شکار کردیاپی ٹی آئی کی حکومت 329 ارب سالانہ گردشی قرضے میں اضافہ ہواموجودہ حکومت نے کفایت شعاری سے کام لیاگرانٹس کی مد میں اخراجات میں کمی کی گئی بجٹ خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کاسات فیصد رہ گیا،موجودہ معاشی مشکلات کی ذمہ دار سابق حکومت ہےپاکستان کی عوام پہنچان لےکس نے ملک کو بچانے کی کوشش کی9 مئی کو دہشت گرد جتھوں نے گھناؤنی اور منظم سازش کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیایہ گروہ کسی صورت نرمی کے حقدار نہیں ایسے عناصر کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے،قومی اسمبلی میں خطاب کے دورن وزیر خزانہ نے آغاز میں نواز شریف کی حکومت اور پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اب میں معزز ایوان کے سامنے رواں مالی سال 23-2022 کے نظر ثانی شدہ بجٹ کے اہم نکات پیش کرتا ہوں۔وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں FBR کے محاصل 7 ہزار 200 ارب روپے کے لگ بھگ رہنے کا امکان ہے۔ جس میں صوبوں کا حصہ 4,129 ارب روپے ہوگا، ہ وفاقی حکومت کا نان ٹیکس ریونیو ایک ہزار 618 ارب روپے ہونے کی توقع ہے۔ وفاق کے محاصل 4 ہزار 689 ارب روپے ہوں گے۔انکا کہنا تھا کہ کل اخراجات کا تخمینہ 11,090 ارب روپے ہے، PSDP کی مد میں اخراجات 567 ارب روپے تک رہنے کا امکان ہے۔انہوں نے بتایا کہ دفاع پر کم و بیش ایک ہزار 510 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ سول حکومت کے مجموعی اخراجات 553 ارب، پنشن پر 654 ارب روپے سبسڈیز کی مد میں ایک ہزار 93 ارب روپے اور گرانٹس کی مد میں 1,090 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ معاشی نقصان کاتخمینہ تیس ارب ڈالر سے زیادہ ہےپاکستان کی معیشت کا دوسرا بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ ہے موجودہ حکومت میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں77 فیصد کمی آئی ہےموجودہ حکوث کی فیصلوں کی وجہ ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا حکومت آئی ایم پروگرام کے نوے جائزے کی شرائط کو پورا کر چکی یہ خسارہ چار ارب ڈالر پر آ جائے گا،پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مفت آٹے کی تقسیم منصوبہ پر عملدرآمد ہواپچھلے ایک ماہ میں حکومت نے دو مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمیموجودہ حکومت بارہ ارب ڈالر کی قرضہ جات کی ادائیگیاں کر چکی ہے،حکومت نے زرعی شعبہ پر مشکلات کو دور کرنے کے لئے دو ہزار ارب روپے سے زائد کا کسان پیکج دیاحکومت زرعی شعبے کے لئےمزیدمراعات کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہےصنعتی شعبہ پر اگلے سال کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،
پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے سیاسی اور معاشی بحران کے دوران الیکشن سال 2024-2023ء کا 750 ارب روپے خسارے کا 14 ہزار 500 ارب روپے کا آخری بجٹ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا،سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر نے بھی شرکت کی۔قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ جناب سپیکر میں خدا کا مشکور ہوں مجھے اس معزز ایوان کے سامنے اتحادی حکومت کا دوسرا بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے، جناب سپیکر اس سے پہلے مالی سال کے بجٹ پیش کروں۔ مسلم لیگ ن کے گزشتہ دور میں مہنگائی کی شرح چار فیصد تھی، ن لیگ نے گزشتہ دور میں سٹاک مارکیٹ کو اوّلین مارکیٹ بنایا، ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے نئ منصوبے مکمل کیے گئے، محمد نواز شریف نے گزشتہ دور میں انفراسٹرکچراور موٹرویز کے منصوبے مکمل کیے۔ ملک مسائل کی ذمہ دار تحریک انصاف ہے۔بجٹ تقریر پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملک کو بدترین معاشی حالات کا سامنا ہے، اور معیشت کا بیڑہ غرق ہوا۔ گزشتہ حکومت کی ن اہلی کی وجہ سے موجودہ حالات میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے سے روگردانی کی اور ملکی ساکھ کو نقصان پہنچایا، گزشتہ حکومت نے نئی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کا کام کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ حقائق نے کو مسخ کیا، اتحادی جماعتوں کے بھرپور تعاون کے مشکور ہیں، موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کو پروگرام کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے، ہم نے سیاست نہیں بلکہ ریاست بچاؤ کی پالیسی اپنائی، قرضوں میں اضافے کی وجہ سے سود کی ادائیگی میں بے تحاشا اضافہ ہوا، گزشتہ دور میں قرضے میں سالانہ 129 ار بروپے ہوا، جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں گردشی قرضے میں 329 ارب روپے کا اضافہ ہوا، ہم نے کفایت شعاری کی پالیسی بنائی۔انہوں نے کہا کہ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن تھی اور پاکستان 2020 تک جی-20 ممالک میں شامل ہونے والا تھا، پاکستانی کرنسی مستحکم اور زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر کے ریکارڈ سطح پر تھے، بجلی کے نئے منصوبوں سے 12-16 گھنٹوں کی لوڈشیدنگ سے نجات مل چکی تھی، انفرااسٹرکچر سسٹم، روزگار کے مواقع اور آسان قرضوں جیسے عوام دوست منصوبوں کی تکمیل کی گئی تھی۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاچکا تھا، ملک میں امن و امان اور سیاسی استحکام تھا، ان حالات میں آناً فاناً سازشوں کے جال بچھا دیے گئے، اگست 2018 میں ایک سلیکٹڈ حکومت وجود میں آئی، اس سلیکٹڈ حکومت کی ناکام معاشی کارکردگی کے سبب پاکستان 24ویں بڑی معیشت کے درجے سے گر کر 47ویں نمبر پر آگیا۔وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا جارہا ہے، سرکاری ملازمین کی کم سے کم پنشن 10 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار کی جارہی ہے، وفاقی حدود میں کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے کی جارہی ہے، صوبے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کریں گے۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیوٹیوٹ (ای او بی آئی) کے ذریعے پنشن حاصل کرنے والے پنشنرز کی کم سے کم پنشن کو 8500 روپے سے بڑھا کر 10ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مقروض افراد کی بیواؤں کے 10لاکھ روپے کے قرضے حکومت ادا کرے گی، قومی بچت کے شہداء اکاؤنٹ میں ڈپازٹ کی حد 50لاکھ روپے سے بڑھا کر 75 لاکھ روپے کی جارہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے بجٹ کو 360 ارب روپے سے بڑھا کر 400ارب کردیا ہے۔وزیراعظم شہاز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے، صحافی کے سوال بجٹ میں عوام کیلئے کوئی ریلیف لا رہے ہیں؟ کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دعا کریں کہ ایک اچھا بجٹ عوام کیلئے دے سکیں۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 750 ارب خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، 7 ہزار 300 ارب روپے سود اور قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق دفاع کیلئے 1800 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، مہنگائی کا تخمینہ 21 فیصد لگایا گیا ہے، شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے اور برآمدات کا ہدف 30 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، سبسڈیز کا تخمینہ 1250 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 430 ارب رکھنے کی تجویز ہے۔نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے، زرعی شعبے کی ترقی اور زرعی صنعت میں جدت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ، برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی کو فروغ دینا، کاروبار اور سرمایہ کاری میں آسانیاں فراہم کرنے اور معیشت کو دستاویزی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔حکومت عوام اور کاروبار دوست وفاقی بجٹ پیش کرنے کیلئے پوری طرح سے پُرعزم ہے، نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں خسارے پر قابو پانے کیلئے مالیاتی استحکام کی پالیسیوں پر بھی توجہ دی گئی ہے۔آئندہ مالی سال 2023-24ء کے بجٹ میں بیرونی مالیاتی ادائیگیوں کے انتظام کے علاوہ محصولات میں اضافہ، اقتصادی استحکام اور ترقی کیلئے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ برآمدات میں اضافہ اور ملک کی سماجی و اقتصادی خوشحالی کیلئے عوام دوست پالیسیاں شامل کی جائیں گی۔نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں گورننس میں بہتری اور سرمایہ کاری کیلئے نجی شعبے کو فروغ دینے کیلئے اصلاحات متعارف کرانے کے علاوہ سماجی شعبے کی ترقی پر بھی توجہ دی جارہی ہے، حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے، ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرے گی۔جاری مالی سال کے دوران محصولات کی مضبوط نمو کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے مالی سال 2023-24 کیلئے محصولات کی وصولی کا ہدف 9 کھرب روپے سے زیادہ مقرر کرنے کا امکان ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ 24-2023 کا مجموعی حجم 14 ہزار 460 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس وصولی کا ہدف 92 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے جس میں سے براہ راست ٹیکس وصولی کا حجم 37 کھرب 59 ارب روپے ہوگا جبکہ بلواسطہ ٹیکسز کا حجم 54 کھرب 41 ارب روپے ہوگا۔ اس کے علاوہ غیر ٹیکس شدہ آمدنی 29 کھرب 63 ارب روپے ہوگی۔بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال حکومت کی مجموعی آمدن 121 کھرب 63 ارب روپے ہوگی، وفاقی محاصل 25 کھرب 31 ارب روپے ہوں گے، صوبوں سے 6 کھرب 50 ارب روپے کا سرپلس بجٹ ملے گا، اداروں کی نجکاری سے 15 ارب روپے کی آمدن ہوگی اور آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ 75 کھرب 73 ارب روپے ہوگا۔بجٹ دستاویز کے مطابق دفاعی بجٹ 18 کھرب 4 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا جارہا ہے، سرکاری ملازمین کی کم سے کم پنشن 10 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار کی جارہی ہے، وفاقی حدود میں کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے کی جارہی ہے، صوبے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کریں گے۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیوٹیوٹ (ای او بی آئی) کے ذریعے پنشن حاصل کرنے والے پنشنرز کی کم سے کم پنشن کو 8500 روپے سے بڑھا کر 10ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مقروض افراد کی بیواؤں کے 10لاکھ روپے کے قرضے حکومت ادا کرے گی، قومی بچت کے شہداء اکاؤنٹ میں ڈپازٹ کی حد 50لاکھ روپے سے بڑھا کر 75 لاکھ روپے کی جارہی ہے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے بجٹ کو 360 ارب روپے سے بڑھا کر 400ارب کردیا ہے۔ترسیلات زر کےذریعے غیرمنقولہ جائیداد خریدنے پر 2فیصد ٹیکس ختم،وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں ترسیلات زر کےذریعے غیرمنقولہ جائیداد خریدنے پر 2 فیصد ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، ریمٹنس کارڈ کی کیٹگری میں ایک نئے ڈائمنڈ کارڈ کا اجراء کیا جارہا ہے، سالانہ 50 ہزار ڈالر سے زائد ترسیلات زر بھیجنے والوں کو ڈائمنڈ کارڈ جاری ہوگا۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 11 کھرب 50 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 31فیصد زیادہ ہوگا، اس میں پارلیمنٹیرینز کی تجویز کردہ اسکیموں کے لیے 90 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس آمدن کا تقریباً 80 فیصد قرض اور سود کی ادائیگیوں میں چلا جائے گا، قرض اور سود کی ادائیگیوں کے لیے 7300 ارب روپے روکھے جانے کی تجویز ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کےلیے 430 ارب، 1300 ارب کی سبسڈی اور دفاع کےلیے 1800 ارب مختص کیے جانے کاامکان ہے۔آئندہ مالی سال کےلیے مجموعی ترقیاتی بجٹ 2500 ارب روپے کاہوگا جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے۔ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1350 ارب روپے ہونے کاا مکان ہے، سندھ کا ترقیاتی بجٹ 40 فیصد اضافے سے 617 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جب کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کا عبوری بجٹ 4 ماہ کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے۔پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 426ارب روپے اور خیبر پختونخوا کا268 ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے، بلوچستان کا ترقیاتی 248 ارب روپے تجویز کیاجائے گاجوکہ موجودہ سال کی نسبت 65 فیصد زیادہ ہے۔95 کھرب 2 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ بجٹ میں درآمدات کا ہدف 58.70 ارب ڈالر اور برآمدات کا حجم 30 ارب ڈالر مختص کیا جارہا ہے جب کہ تجارتی خسارہ 28.70 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں