اسلام آباد (اے بی این نیوز) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ صوبے کے عوام کے مفاد میں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں اور آئندہ 60 دن میں نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 برس کے دوران حکومتی کارکردگی کا نتیجہ تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال تشویش ناک تھی اور ایمرجنسی ناگزیر ہوچکی تھی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور عام شہری قربانیاں دے رہے ہیں، اس لیے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کا خاتمہ چند منٹوں یا دنوں میں ممکن نہیں، تاہم اس سلسلے میں مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کابینہ کے آٹھ ارکان ان کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی، ریاستی اور ملکی دہشت گردی سمیت تمام معاملات کو ایڈریس کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی وجوہات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی کے دہشت گردوں سے روابط تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دوستوں کو ملک کی خدمت کے لیے دوسری جماعت میں شامل ہونے پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے بقول اب عوام جھوٹے نعروں کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔
یہ جو نیا سیٹ اپ آیا ہے، 180 دن کا مطلب 180 دن، کارکردگی دکھانا ہو گی، نہیں تو اِس سے اچھے آئیں گے، کنڈی صاحب پر بڑی ذمے داری ہے، ناکامی کی کوئی گنجائش ایک فیصد نہیں، کامیابی ہونی ہے اللہ کی مدد سے، فیصل واوڈا https://t.co/AQ7MJZSjYt
— Khurram Iqbal (@khurram143) October 13, 2026
فیصل واوڈا نے کہا کہ عوام کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں میں بہتری اور ریلیف چاہیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آئندہ 180 دن میں عوام کو ریلیف ملے گا، جبکہ 60 دن کے اندر اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔
گورنر راج سے متعلق سوال پر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ گورنر راج آئین میں موجود ہے اور اسے غیر آئینی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر کی کارکردگی پر نظر رکھی جائے گی اور نتائج نہ ملنے کی صورت میں متبادل انتظام بھی ہوسکتا ہے۔
بلوچستان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ کوئی صوبہ ٹوٹنے جا رہا ہے اور نہ ہی ملک کو نقصان پہنچانے کی کسی کوشش کو کامیاب ہونے دیا جائے گا۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ قومی پرچم اور قومی ترانے کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہدا کے خلاف منفی گفتگو ناقابل قبول ہے۔
بانی پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ انہیں سیاست بانی پی ٹی آئی نے سکھائی اور وہ انہیں سیاسی مشکلات سے نکالنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سابق کابینہ میں اچھے لوگ بھی موجود تھے، تاہم اب ملک کی خدمت کے لیے عملی کارکردگی کو بنیاد بنانا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان سے متعلق فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے سہیل آفریدی کو گرفتار کرانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان ملکی ترقی کے معاملات میں ساتھ دے سکتے ہیں۔
فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کے دوران ملک کے سیاسی اور انتظامی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے ’’ری بوٹ‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی اور کہا کہ جب نظام مختلف شعبوں میں ناکام ہو تو اسے دوبارہ درست سمت میں چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں:سہیل آفریدی سے متعلق بڑی خبر، اہم پیش رفت سامنے آگئی















