اہم خبریں

حکومت کا بڑا فیصلہ، فیول ریلیف روکنے والے پمپس کے خلاف ایکشن

اسلام آباد: حکومت نے فیول ریلیف اسکیم کے تحت اہل صارفین کو رعایت نہ دینے والے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ریلیف اسکیم پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور مستحق صارفین کو سہولت فراہم کرنے میں رکاوٹ ڈالنے والے پمپس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

وزیر پیٹرولیم کی زیر صدارت اجلاس میں ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی اور وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں حکام نے اسکیم کے تحت پمپس کو کی جانے والی ادائیگیوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔

حکام کے مطابق ملک بھر میں موجود تقریباً 10 ہزار پیٹرول پمپس میں سے 8 ہزار 500 سے زائد کو اسکیم کے تحت ادائیگیاں مکمل کی جاچکی ہیں، جبکہ باقی پمپس کو ادائیگیوں کا عمل بھی جاری ہے۔

علی پرویز ملک نے ہدایت کی کہ کسی بھی پمپ پر اہل صارف کو حکومتی ریلیف سے محروم نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے پیٹرول پمپس جو صارفین کو مقررہ سہولت فراہم نہیں کرتے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس سلسلے میں اوگرا کو بھی ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

اجلاس میں ملک میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر پیٹرولیم نے ہدایت کی کہ امن و امان کی صورتحال، سڑکوں کی بندش یا دیگر رکاوٹوں کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل متاثر نہ ہو اور اس کے لیے پیشگی انتظامات کیے جائیں۔

پاکستان ریلوے حکام نے خیبر پختونخوا میں ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ سڑکوں کی بندش کی صورت میں ڈیزل کی ترسیل کے لیے زیادہ سے زیادہ ریلوے ویگنز دستیاب رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان اسٹیٹ آئل کو ڈپوؤں میں مناسب مقدار میں ایندھن کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے کے لیے خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کیا ہے۔

حکومت نے 17 ستمبر کو پیٹرول پمپس اور ڈیلرز کی تنظیموں سے بھی فیول ریلیف اسکیم پر تعاون کی یقین دہانی حاصل کی تھی۔ اس وقت بتایا گیا تھا کہ اسکیم کے لیے تین ماہ کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور پہلے ماہ کے لیے 25 ارب روپے اسٹیٹ بینک کو فراہم کیے جاچکے ہیں۔

یوں حکومت نے ایک طرف فیول ریلیف کے مستحق صارفین تک رعایت پہنچانے کے لیے نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو دوسری جانب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے بھی پیشگی اقدامات شروع کردیئے ہیں۔

متعلقہ خبریں