اہم خبریں

لاہور: غیر ملکی خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان، اغوا، تشدد اور مبینہ زیادتی کے سنگین الزامات

لاہور (اے بی این نیوز) لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں متاثرہ غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے بیان کا کچھ حصہ منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس میں انہوں نے اغوا، تشدد، دھمکیوں اور مبینہ جنسی زیادتی سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

بیان کے مطابق اسٹرڈ گیبریلا روبنسن نے بتایا کہ ان کی عمر 40 برس ہے اور وہ اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے حلف کے تحت بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دوسری متاثرہ خاتون اسٹیفنی کے بیان سے ملتا جلتا ہے، تاہم ان کا ذاتی تجربہ مختلف تھا۔

خاتون کے مطابق قیام کی پہلی رات چار مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، انہیں باندھ دیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک شخص نے ان کے جسم کو نامناسب انداز میں چھوا جبکہ چہرے پر متعدد گھونسے بھی مارے گئے۔ ان کے مطابق بعد ازاں ایک شخص، جس کی شناخت انہوں نے رضا ڈار کے نام سے کی، آیا اور کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ خاتون نے حملہ آوروں کو بتایا کہ مطلوبہ سامان سبز رنگ کے بیگ میں موجود ہے۔ کچھ دیر بعد دوسری غیر ملکی خاتون اسٹیفنی کو بھی وہاں لایا گیا اور دونوں سے کمپیوٹر اور پاس ورڈ کے بارے میں سوالات کیے جاتے رہے۔ خاتون نے الزام لگایا کہ اس دوران ان کے سر پر پستول کے بٹ سے وار بھی کیا گیا۔

اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کے مطابق وہاں موجود ایک شخص روانی سے انگریزی بول رہا تھا۔ جب انہوں نے اس سے پوچھا کہ آیا انہیں قتل کر دیا جائے گا تو اس نے مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر رقم نہ دی گئی تو وہ زندہ نہیں جائیں گی۔

خاتون نے مزید الزام لگایا کہ بعد ازاں انہیں دوسرے فلور پر لے جایا گیا، جہاں تشدد کے بعد ان کے ساتھ متعدد مرتبہ **مبینہ جنسی زیادتی** کی گئی۔ ان کے مطابق شور مچانے پر ملزم رک گیا، انہیں دوبارہ کپڑے پہنائے گئے اور واپس اسی کمرے میں لے جایا گیا جہاں دیگر افراد موجود تھے۔

پولیس کی جانب سے مقدمے کی تفتیش جاری ہے، جبکہ ان الزامات سے متعلق حتمی حقائق کا تعین عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں الیکٹرک بس سروس 147 تحصیلوں تک پھیلانے کا اعلان

متعلقہ خبریں