اہم خبریں

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کلیدی پالیسیاں، پاکستان کا دنیا بھر میں سر فخر سے بلند

پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں داخلی استحکام، معاشی بحالی اور عالمی سطح پر وقار کی بحالی بیک وقت اہم چیلنجز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ایسے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اپنائی گئی حکمت عملی اور پالیسیوں نے نہ صرف ریاستی ڈھانچے کو مضبوط کیا بلکہ پاکستان کو ایک باوقار اور مستحکم ملک کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو 1960 کی دہائی سے لے کر اب تک پاکستان کو کئی داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ دہشتگردی، سرحدی کشیدگی، معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل نے ملک کی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔ تاہم حالیہ برسوں میں سیکیورٹی اداروں کی مؤثر حکمت عملی اور قیادت نے ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک نئی سمت متعین کی ہے، جس کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پالیسیوں کا سب سے نمایاں پہلو قومی سلامتی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ انہوں نے روایتی جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ دی۔ اس جدید سوچ کے باعث پاکستان نہ صرف زمینی بلکہ ڈیجیٹل میدان میں بھی اپنے دفاع کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز میں بہتری اور امن و امان کی صورتحال میں نمایاں استحکام اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

ان کی قیادت میں سرحدی نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ جدید آلات اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا، جس سے غیر قانونی سرگرمیوں اور دراندازی کو روکنے میں مدد ملی۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی امن کے قیام کیلئے بھی متوازن پالیسی اپنائی گئی، جس میں دفاعی تیاری کے ساتھ سفارتی حکمت عملی کو بھی اہمیت دی گئی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سوچ کا ایک اہم پہلو قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط ریاست کی بنیاد ایک متحد قوم ہوتی ہے۔ اس مقصد کیلئے عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کو بحال کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ داخلی سطح پر استحکام پیدا کرنے کیلئے مختلف اقدامات کیے گئے، جن کا مقصد عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنا اور ریاستی اداروں پر اعتماد کو بڑھانا تھا۔معاشی استحکام کے حوالے سے بھی ان کی پالیسیوں کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ سیکیورٹی کی بہتر صورتحال نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا، جس سے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔ جب کسی ملک میں امن و استحکام ہو تو وہاں اقتصادی سرگرمیاں خود بخود بڑھنے لگتی ہیں، اور یہی چیز پاکستان میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مختلف ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں بہتری بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اپنائی گئی پالیسیوں نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر پیش کیا ہے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی توازن اور بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ تمام عوامل پاکستان کے عالمی وقار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔مزید برآں، خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کا کردار بھی نمایاں ہوا ہے۔ مختلف علاقائی تنازعات میں تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ یہ پالیسی نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہے بلکہ خطے کے مجموعی استحکام کیلئے بھی ضروری ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں جنگ کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے۔ اب صرف روایتی ہتھیاروں کے بجائے معاشی، سائبر اور معلوماتی جنگ بھی اہم ہو چکی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پالیسیوں میں ان تمام پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے، جس سے پاکستان ایک ہمہ جہت دفاعی حکمت عملی اپنانے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کو یقینی بنا رہا ہے بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال بھی رہا ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اپنائی گئی کلیدی پالیسیاں پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست بنانے کی سمت میں اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہیں۔ قومی سلامتی، معاشی ترقی اور عالمی سطح پر وقار کی بحالی جیسے اہداف کو بیک وقت حاصل کرنا کسی بھی ملک کیلئے آسان نہیں ہوتا، مگر موجودہ قیادت نے اس مشکل کو ممکن بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں ایک اہم اور بااثر کردار ادا کرتا نظر آئے گا، اور قوم کا سر واقعی فخر سے بلند ہوگا۔

تحریر : عزیر احمد خان

متعلقہ خبریں