
شہدائے یونان اور قومی بے حسی کی انتہا
قیام پاکستان کے وقت 1947ء میں ہمار ے بزرگوں نے ملک کے اندر ہجرت کرنے کے لئے جانی قربانیاں دی تھیں، 70کی دہائی کے بعد سے آج تک ہم ملک

قیام پاکستان کے وقت 1947ء میں ہمار ے بزرگوں نے ملک کے اندر ہجرت کرنے کے لئے جانی قربانیاں دی تھیں، 70کی دہائی کے بعد سے آج تک ہم ملک

آج دنیا میں انسانی حقوق کے نام پر ہر طرف شور مچا ہوا ہے۔ اُن ہی حکومتوں اور افراد کو مہذب اور باشعور ہونے کا سرٹیفیکیٹ ملتا ہے جو حقوق

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ ’’ناموس رسالتﷺ پر کسی قسم کی مصلحت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا‘ عشق رسالتؐ ہر مسلمان کی رگ رگ میں ہے‘

مٹی کی چلتی پھرتی ڈھیریاں ممٹیوں یامسندوں پرجابیٹھیں توسب کچھ بھول جاتی ہیں۔اپنی اصل اوقات،اپناآغازاوراپناانجام تک بھول جاتی ہیں۔ موت کی ہچکی کو ذرا غور سے سن زندگی بھر کا

٭ صدر مملکت نے آرمی چیف کے تقرر کا مسئلہ آخری دنوں تک لٹکائے رکھا مگر سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس کا تقرر حلف برداری سے تقریباً تین ماہ

انسانی سمگلنگ (گزشتہ سے پیوستہ) لیبیا میں پاکستان کا سفارت خانہ جاں بحق افراد کی شناخت کے عمل میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ مقامی حکام اور ہلال احمر کی

کیسویں صدی کے 21سبق اور مسلم دانشور ’’اکیسویں صدی کے اکیس سبق‘‘ کا مصنف یووال نوح ہراری کہتا ہے کہ ’’کیا لبرل ازم اپنے آپ کو ایک بار پھر نئے

کیاایٹمی جنگ کاامکان بڑھ گیاہے؟ (گزشتہ سے پیوستہ) ہوسکتاہے اس وقت کے آئن اسٹائن کی رجمنٹ کاکوئی منہ پھٹ آئن اسٹائن چمکتی آنکھوں کے ساتھ ہاتھ اٹھائے،مسکرائے،سب کو اپنی طرف

دیوانوں کے قافلے رواں دواںمنزل ایک بیاباں۔جہاں نہ تو کوئی ہریالی ہے اور نہ ہی کوئی سبزہ زار،نہ تو وہاں دریا ہیں اور نہ ہی نہریں،گرم ریت کا نہ ختم

(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کا یہ ارشاد گرامی آج ہمارے لیے لمحۂ فکریہ بلکہ تازیانہ عبرت ہے، اس لیے کہ آج صورتحال بالکل برعکس ہو گئی ہے۔





