اہم خبریں

کم ترین سطح چھونے کے بعد ڈالر کی پھر اونچی اڑان

کراچی (نیوزڈیسک)اکتوبرمیں کم ترین سطح چھونے کے بعد ڈالر کی ایک بار پھر اڑان۔ جس کا سبب درآمد کنندگان کی جانب سے بھاری طلب کیساتھ ملک میں ڈالر کی آمد میں کمی بھی سامنے آگئی۔کرنسی لین دین کے ماہرین نے کئی وجوہات کی نشاندہی کی ہے جو روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ تھم جانے کا سبب بنی ہیں، پی پی آئی کے مطابق انٹربینک مارکیٹ سے وابستہ بینکرز کے مطابق ڈالر کی آمد میں کمی اس رجحان میں تبدیلی کی بڑی وجہ بنی۔مارکیٹ میں بہت سے لوگوں کا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے بیرونی سرمایہ کاری آنے کی امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔ایک سینیئر بینکر نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کی جانب سے تازہ ترین حملے سیاسی اور اقتصادی ماحول کو مزید غیرمستحکم کر سکتے ہیں، اقتصادی رجحانات کے مستقبل پر ایک قسم کی بے یقینی چھا گئی ہے، حکومت کو معاشی استحکام کا یقین ہے لیکن معیشت کی ترقی تاحال پیچیدہ مراحل پر ہے۔ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمد کنندہ عامر عزیز نے کہا کہ حالات معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار نہیں ہیں، ٹیکسٹائل کا شعبہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے جبکہ کاروبار کرنے کی لاگت خطے میں سب سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال، بالخصوص درآمدی پابندیوں اور پیداواری لاگت کے سبب معاشی چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔برآمد کنندگان ڈالر کی قدر میں اضافے کو اپنے منافع کے لیے حوصلہ افزا علامت سمجھتے ہیں لیکن ڈالر مہنگا ہونے کے سبب مہنگائی خاص طور پر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔مارکیٹ پرامید ہے کہ ایک بار جب آئی ایم ایف پاکستان کو کلین چٹ دے دے گا تو روپے کی قدر بحال ہوجائے گی۔

متعلقہ خبریں