اسلام آباد (اے بی این نیوز )سپریم کورٹ نے برطانیہ سے ریکور رقم ادائیگیوں میں ایڈجسٹ کرنے پر سوال اٹھا دیا،بحریہ ٹاؤن نے جو رقوم جمع کرائی وہ کہاں سے؟ کیا یہ درست ہے بیرون ملک ضبط رقم بھی سپریم کورٹ جمع کرائی گئی؟ چیف جسٹس کاوکیل سے استفسار،وکیل نے کہا وہ سب ایک معاہدے سے ہوا ، چیف جسٹس نے کہا آپ وہ معاہدہ پیش کر دیں، وکیل نے کہا اس معاملے پر نوٹس نہیں ہوا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےپھر ہم نوٹس کر دیتے ہیں ، وکیل نے کہا ادائیگیاں شیئر ہولڈرز نے کی تھیں، اجازت دیں پہلے میں ہدایات لوں پھر اس پر آگاہ کروں گا،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نےرقم حکومت سندھ کو ملنے کاکہا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا رقم ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کوملنی چاہیے تھی،چیف جسٹس نے استفسار کیا رقم سپریم کورٹ کے پاس ہے تو کیا منصوبوں کیلئے ہم رقم جاری کریں ؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئےاگر لے آؤٹ پلان نہیں ہے تو پھر بحریہ ٹاؤن کا سارا منصوبہ غیر قانونی ہے،عدالت نے کیس کی سماعت 8 نومبر تک ملتوی کر دی گئی















