اہم خبریں

فلسطینیوں کی نسل کشی، مغربی ممالک بھی اسرائیل کیخلاف کھل کر سامنے آگئے

نیویارک (نیوز ڈیسک)اسرائیل اور حماس کی جنگ مختلف ممالک کیساتھ اسرائیل کے تعلقات پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ بیشتر مسلم ممالک تو اسرائیل کی کھل کر مخالفت میں سامنے آگئے ، اسرائیل کے بعض حلیف ممالک بھی اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے تاحال ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے، تاہم عالمی سیاست میں یہ معاملہ موضوعِ بحث ہے۔جنوبی امریکہ کے ملک کولمیبا کے وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی سفیر کی جانب سے کولمبین صدر سے متعلق ریمارکس کے بعد اُنہیں ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کا دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں کے یہودیوں پر ظلم و ستم سے موازنہ کیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ تھا کہ “جمہوری لوگ بین الاقوامی سیاست میں نازی ازم کو دوبارہ قدم جمانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔کولمبیا میں اسرائیل کے سفیر گالی ڈاگان نے صدر کی پوسٹ پر براہ راست اُنہیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ معصوم شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی مذمت کریں۔اس پر کولمبیا کے صدر نے جواب دیا تھا کہ دہشتگردی یہ ہے کہ معصوم بچوں کو مارا جائے، چاہے وہ کولمبیا میں ہو یا فلسطین میں۔خیال رہے کہ کولمبیا کا شمار اسرائیل کے حلیف ممالک میں ہوتا ہے اور یہ اسرائیل سے اسلحے کا بھی بڑا خریدار ہے ۔ امریکی خبررساں ادارے وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے اسپین کے تین وزرا کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ تاہم دوسری جانب اسپین کی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا۔ اسپین کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزرا نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں نسل کشی قرار دیا تھا۔اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے بھی چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ کئی لاکھ لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی کوئی منطق نہیں ۔حمزہ یوسف کے ساس اور سسر بھی اس وقت غزہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔عرب نشریاتی ادارےالجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں اُنہوں نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں پر تنقید کی تھی۔حمزہ یوسف کا کہنا تھا کہ وہ بار بار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ غزہ تک امداد اور اشیائے خورو نوش پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں کو وہاں سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ بھی دیا جانا چاہیے۔دوسری جانب آئرلینڈ کے صدر مائیکل ڈی ہگنز نے یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لین پر اسرائیل، حماس جنگ کے حوالے سے اُن کے پالیسی بیان تنقید کی ۔روم میں ورلڈ فوڈ فورم میں خطاب کرتے ہوئے آئرش صدر کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔خیال رہے کہ یورپی یونین کی سربراہ نےایکس پر اپنے بیان میں حماس کے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔آئرلینڈ وزیرِ اعظم نے بھی اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بجلی منقطع کرنے، خوارک اور پانی کی بندش پر مذمت ۔ناروے، روس، جنوبی افریقہ اور وینزویلا نے بھی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی ۔خیال رہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے اور غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی کے بعد اب تک چار ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔دنیا کے بیشتر مسلم ممالک غزہ میں اسرائیلی کی جوابی کارروائیوں کی مذمت کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں