اہم خبریں

سعودی عرب ، اسرائیل تعلقات کی بحالی کا منصوبہ تعطل کا شکار

جدہ(نیوزڈیسک)فلسطین میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے بعد سعوی عرب نے اسرائیل کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کے امریکی حمایت یافتہ منصوبہ ختم کرنے پر غور شروع کردیا ۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت کے باعث سعودی عرب ایران کیساتھ طویل عرصے بعد بات کرنے پر مجبور ہوا۔ پہلی بار شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے عالمی صورتحال پر ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ ریاض کی کوشش ہے کہ پورے خطے میں تشدد میں اضافے کو روکا جائے۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل کے ساتھ سعودی تعلقات بحالی کا منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا۔ اسرائیل کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانا سعودی مملکت کیلئے اہم قدم تھا جس کے بدلے میں ریاض امریکہ کے ساتھ ممکنہ دفاعی معاہدے کو اصل انعام کے طور پر دیکھتا ہے۔ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر تباہ کن حملے سے چھڑنے والی جنگ سے قبل اسرائیل اور سعودی عرب کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے معاہدے کی طرف پیشرفت کر رہے تھےجو مشرق وسطیٰ کو نئی شکل دے سکتا تھا۔قبل ازیں سعودی عرب نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اپنے امریکی دفاعی معاہدے کے حصول کی کوشش کو ثبوتاز نہیں ہونے دے گا۔ اور اسرئیل کی جانب سے فلسطینیوں کو ریاست کے قیام کیلئے رعایت نہ دینے کی صورت میں بھی پٹڑی سے اترنے کی اجازت نہیں دے گا۔ان حالات میں اب سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین تعلقات تقریباً ختم ہوچکے ہیں اور جب بات چیت دوبارہ شروع ہو گی تو فلسطینیوں کے لیے اسرائیلی رعایتوں کے معاملے کو بڑی ترجیح دینے کی ضرورت ہوگی –

متعلقہ خبریں