اسلام آباد(نیوزڈیسک)الیکشن کمیشن نے انتخابی رولز میں تبدیلی کی منظوری دے دیالیکشن کمیشن نے الیکشن رولز کی 18 شقوں میں تبدیلی کیالیکشن کمیشن نے 5 نئے فارم بھی جاری کر دیئے، ترمیم شدہ رولز پر 15 روز میں اعتراضات دائر کئے جا سکیں گے، امیدواروں کیلئے الیکشن اخراجات کیلئے بینک اکاونٹ سے متعلق رولز میں تبدیلی کر دی گئی ،امیدوار کو انتخابی اخراجات کیلئے الگ بینک اکاونٹ کھولنا ہو گا، رولز میں تبدیلی ۔ الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوار کا مشترکہ اکاونٹ قابل قبول نہ ہو گا،ریٹرننگ افسر امیدوار کو ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن کے آفس میں رزلٹ فراہم کرے گا،پوسٹل بیلٹ سے بھی رولز تبدیلپوسٹل بیلٹ کو الگ الگ پیکٹس میں سیل کر کے متعلقہ آر او کو بھیجا جائے گا، پوسٹل بیلٹ الیکشن ڈے سے پہلے آر او کو نہ ملنے پر ووٹس گنتی میں شمار نہیں ہوں گے، تبدیلیرات 2 بجے تک رزلٹ میں تاخیر پر آر او فوری الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے گا،آر او تاخیر کی وجوہات سے بھی الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے گاآر او امیدواروں کی موجودگی میں رزلٹ حوالے کرے گاآر او نتائج کے لییے فارم 47، 48، 49 خود مرتب کر کے سیل کرے گا، تبدیلیامیدوار انتخابی اخراجات کا ریکارڈ خود مرتب اور حوالے کرے گا، امیدوار انتخابی اخراجات کی مکمل تفصیلات اور انتخابی مہم پر مالی اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے کا پابند ہو گا، رولز میں تبدیلی ا میدوار کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے پہلے الگ بینک اکاونٹ کھولنے کا پابند ہو گا، انتخابات سے متعلق پٹیشن ایک لاکھ روپے کے عوض فائل کی جا سکے گی، رولز میں الیکشن کمیشن کیس پر 180 روز میں فیصلہ سنائے گا، رولز میں تبدیلی ، دوران سماعت التوا مانگنے پر 10 ہزار سے 50 ہزار جرمانہ کیا جائے گا، سماعت میں 3 روز سے زیادہ کا التوا نہیں ملے گا، سیاسی جماعتیں انٹرا پارٹی الیکشن سے 15 روز پہلے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنے کی پابند، سیاسی جماعتیں کو انٹرا پارٹی الیکشن کے 7 روز بعد تفصیل جمع کرانا لازم، رولز میں تبدیلیالیکشن کمیشن کے جرمانے حکومتی خزانے میں جمع ہوں گے۔















